Sachi Muchi News  (Haripur Pakistan)

This is a News Chanel All About Pakistan and World,About all Topic, Interesting and Much more Real News, #SuchiMuchiNews #Pakistan #Standforkashmir #haripur URDU POETRY,News,Entertainment,Pakistan news,world news,Blog news,Hamari web,Urdu point,Ary News,Geo news,Corona News,corona virus,covid-19,you tube news,google news,Pm Imran khan news,India news,Real news,Blogger news,suchumuchunews,haripur,Islamabad,Karachi,Lahore,Peshawar,allover news

Latest Post
Ameer Mahawia Tanoli BLOGGER POLICY by hiding the truth by suppressing freedom of speech CORONA VIRUS Corona Virus Stop Eating Paan France Product Games Golra Sharif Haripur Haripur Abbottabad Italian Mall baycot farance Product How log Time Corono Virus live on Human Body Hurry up in Marriage Imported India iSLAMIC NEWS NAWAZ SHARIF News Old Is Gold Search Gold in your mobile Phone One of the main reasons for this was that the rulers there realized that by banning books PAKISTAN Papular Quaita Teacher Job TIK TOK BLOCK we could never make progress. Who is Most Papular TikTok OR Instagram آذربائیجان کے شہری پاکستان اور ترکی سے ملنے والی سپورٹ پربہت زیادہ پرجوش ہیں۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 16 ہزار 351 ہوگئی سعودی عرب کی جانب سے بھارت کے لئے تمام پروازوں پر پابندی لگا دی سوئی گیس منصوبے کی تکمیل پروفاقی وزیرکے سیکرٹری نے علاقے کادورہ کیاجہاں علاقہ مکینوں ماہرین کا بڑا دعویٰ مخالفت کے باوجود معذور ٹک ٹاکر سے لڑکی نے شادی کر لی ---------------------------------------- میں جانتا ہوں اب دنیا بدل گئی ہے اور تو بہت مصروف ہو گیا ہے۔ نئے آنے والے ساتھی بتاتے ہیں، ا والدین پریشانی میں اِضافے کا باعث بن رہی ہے، والدین کیلئے پریشان کن خبر ویکسین کے بعد بھی کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں ہوسکتا

 About a hundred years ago, in a town near Rawalpindi called Golra Sharif, there was an old man named Hazrat Pir Syed Mehr Ali Shah Gilani (may Allah have mercy on him).



He had a son named Babuji. He was nine or ten years old at the time. When the British started a new train from Golra Sharif, Babuji used to go to the railway tracks every day to see the train. His disciples asked Babuji, "Babuji, why do you come here?"


So Babuji replied that I have fallen in love with the engine of the train.


He asked why love has fallen?


So Babuji said that there are five reasons for this.


The first reason is that the engine of the train takes the train to its destination.


The second reason is that it carries the last box with it.


The third reason is that the fire eats itself, the boxes do not have to eat.


The fourth reason is that it is straight.


And the fifth reason is that it does not need boxes itself, but boxes do.


Even in this world, some people are like engines, some like boxes. Not everyone can become an engine, but if they become an engine, they should take the boxes with them. In the same way, if there is no engine itself, it should be attached to an engine so that it can reach the destination, otherwise it will rot at the station.

 تقریباً سو سال پہلے کی بات ہے کہ راولپنڈی کے نزدیک ایک قصبہ جس کا نام گولڑہ شریف ہے، وہاں ایک بزرگ تھے، جن کا نام تھا حضرت پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمة الله عليه۔


ان کے ایک بیٹے تھے ان کا نام تھا بابوجیؒ۔ اس وقت ان کی عمر نو سال یا دس سال تھی۔ جب انگریزوں نے گولڑہ شریف سے نئی نئی ٹرین چلائی تو بابوجیؒ روزانہ ٹرین کو دیکھنے ریل کی پٹڑی کے پاس چلے آتے۔ ان کے مریدوں نے بابوجیؒ سے پوچھا بابوجیؒ، آپ یہاں کیوں آتے ہیں؟



تو بابوجیؒ نے جواب دیا کہ مجھے ٹرین کے انجن سے محبت ہو گئی ہے۔


انہوں نے پوچھا کیوں محبت ہو گئی ہے؟


تو بابوجیؒ نے فرمایا کہ اس کی پانچ وجوہات ہیں؛


پہلی وجہ یہ کہ ٹرین کا انجن ٹرین کو اپنی منزل تک لے کر جاتا ہے۔


دوسری وجہ کہ یہ آخری ڈبے کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے۔


تیسری وجہ کہ یہ آگ خود کھاتا ہے، ڈبوں کو نہیں کھانی پڑتی۔


چوتھی وجہ کہ یہ صراط مستقیم یعنی سیدھا چلتا ہے۔


اور پانچویں وجہ کہ یہ خود ڈبوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ڈبے اس کے محتاج ہوتے ہیں۔


اس دنیا میں بھی کچھ لوگ انجن کی طرح ہوتے ہی تو کچھ ڈبوں کی طرح۔ ہر کوئی انجن نہیں بن سکتا، لیکن جو انجن بن جائے تو انہیں چاہیے ڈبوں کو بھی ساتھ لے کر جائے۔ اسی طرح جو خود انجن نہ ہو، اسے کسی انجن کے ساتھ لگ جانا چاہئیے تا کہ منزل تک پہنچ سکے، ورنہ سٹیشن پر کھڑا سڑ جائے گا۔

 Khalabat (Special Representative) On the expiration of the term of Tanoli Ittehad Haripur District,


 all the bodies were dissolved and a unanimous decision was taken to reorganize. New 

organization will be announced on October 31. Coordinator Saleem Khan Tanoli has been 

given all the powers An important meeting of the officials of All Pakistan Tanoli Ittehad 

Haripur District was held on Friday evening under the chairmanship of Patron General Haji 

Hayat Khan Tanoli of Bat Gully. Chief Coordinator Saleem Khan Tanoli Khalabat Chairman 


Haji Akram Tanoli Khalabat General Secretary Abrar Khan Tanoli Kangra Colony Haji 

Muhammad Naseem Tanoli Kangra Colony Muhammad Jameel Khan Tanoli Haripur 

Mumtaz Khan Tanoli Kangra Colony Afzal Khan Tanoli Darya Doga Sajid Karim Tanoli 

Khalabat Bilal Maqbool Khan Tanoli Namdar Khan Tanoli Hassan By Javed Khan Tanoli 

Hassan By Faisal Saleem Khan Tanoli Badhora and other officials attended. In the meeting, 

all the participants unanimously decided to dissolve the existing bodies and reorganize 

them 


on the expiration of the term of All Pakistan Tanoli Ittehad Haripur District Central and 

Tehsil Bodies. According to the unanimous decision, on Saturday 31st October at 2:30 PM 

Saleem Khan Tanoli's Hujra located in Pakhral Chowk Sector No. 2 Khalabat All Pakistan 

Tanoli Ittehad District Haripur District General Body District Youth Wing Tehsil General 

Body and Tehsil Youth Wing Cabinet members of all bodies will be elected New bodies 

will 

be formed In the meeting, all powers were handed over to Coordinator Saleem Khan Tanoli. 

Special prayers and condolences were expressed on the death of former Nazim Kangra 

Colony Shaheed Haji Naveed Akhtar Tanoli for his forgiveness and reward.

 کھلابٹ(نمائندہ خصوصی)تنولی اتحاد ضلع ہری پور کی مدت مکمل ہونے پر تمام 

باڈیاں تحلیل کر کے تنظیم نو کا متفقہ فیصلہ کر دیا گیا 31 اکتوبر کو نئ تنظیم سازی 

کا اعلان کیا جاۓ گا 



کوارڈینٹر سلیم خان تنولی کو تمام اختیارات سپرد کر دئیے گۓ جمعہ کی شام آل

 پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کے عہدےداران کا اہم اجلاس زیر صدارت 

سرپرست اعلی حاجی حیات خان تنولی آف بیٹ گلی  منعقد ہوا اجلاس میں چیف

 کوارڈینیٹر سلیم خان تنولی کھلابٹ چئیرمین حاجی اکرم تنولی کھلابٹ جنرل

 سیکرٹری ابرار خان تنولی کانگڑہ کالونی حاجی محمد نسیم تنولی کانگڑہ کالونی

 محمد جمیل خان تنولی ہری پور ممتاز خان تنولی کانگڑہ کالونی افضال خان تنولی 

دریہ ڈوگہ ساجد کریم تنولی کھلابٹ بلال مقبول خان تنولی نامدار خان تنولی حسن بائ 

جاوید خان تنولی حسن بائ فیصل سلیم خان تنولی بدھوڑہ سمیت دیگر عہدے داران نے

 شرکت کی اجلاس میں آل پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کی مرکزی اور تحصیل 

باڈیوں کی مدت مکمل ہونے پر تمام شرکاء نے متفقہ فیصلہ کرتےہوۓ موجودہ باڈیوں 


کو تحلیل کرکے تنظیم نو کا فیصلہ کیا


 متفقہ فیصلہ کے مطابق 31 اکتوبر بروز ہفتہ 

دن 2:30 بجے چیف کوارڈینیٹر سلیم خان تنولی کے حجرہ واقع پکھرال چوک .

سیکٹر نمبر2 کھلابٹ میں آل پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کی ضلعی جنرل باڈی 

ضلعی یوتھ ونگ تحصیل جنرل باڈی اور تحصیل یوتھ ونگ کی تمام باڈیوں کی کابینہ

 اراکین کا چناؤ عمل میں لایا جاۓ گا نئ باڈیوں کی تشکیل تک تمام تر اختیارات

 کوارڈینیٹر سلیم خان تنولی کو سونپے گۓ اجلاس میں سابق ناظم کانگڑہ کالونی شہید 

حاجی نوید اختر تنولی کی وفات پر ان کی مغفرت اور ایصال ثواب کے لیے 

خصوصی دعا اوع تعزیت کا اظہار کیا گیا


 پر یس ریلیز 

اسلام آباد: تھانہ مارگلہ و کراچی کمپنی پولیس ٹیمو ں کی کارروائیاں،رات کے اندھیرے میں دوکانوں سے چوری کرنے والا مرکزی ملزم سمیت ایک موٹر سائیکل چور کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے چوری شدہ رقم 1 لاکھ 8 ہزار پانچ سو روپے اورچوری شدہ ہنڈا 125 موٹر سائیکل برآمدکر لیا ،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔



 

تفصیلا ت کے مطا بق انسپکٹر جنر ل آ ف پولیس اسلام آ باد محمد عامر ذوالفقار خا ن کے احکا ما ت کی روشنی میں ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو جر ائم پیشہ عناصر کی گرفتار ی اور ما ل مسروقہ کی بر آمد گی کا ٹا سک ضلع بھر کے پولیس افسران کو دیا ، ان احکا ما ت کی روشنی میں ایس پی صدر زون محمد سرفراز ورک نے ڈی ایس پی مارگلہ عابد اکرام کی زیرنگرانی میں ایس ایچ او تھا نہ کراچی کمپنی سب انسپکٹر سلیم رضا ،ایس ایچ او تھا نہ ما رگلہ سب انسپکٹر عاشق محمد اے ایس آئیز سہیل اشرف ضمیر الحسن معہ دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیمو ں نے تما م تر وسائل بر ﺅے کا ر لا تے ہو ئے رات کے اندھیرے میں دوکانوں سے چوری کرنے والا مرکزی ملزم عثمان رحمان سمیت موٹر سائیکل چور رضوان کو گرفتار کرلیاگیا ، ملزمان کے قبضہ سے دوکان سے چوری شدہ رقم 1 لاکھ 8 ہزار پانچ سو روپے اور موٹرسائیکل چور سے چوری شدہ ہنڈا 125 موٹر سائیکل برآمدکر کے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جا ری ہے ، ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے پولیس ٹیموں میں شامل افسران و ملازمان کی اس اچھی کا رکر دگی کوسرا ہتے ہو ئے تعریفی اسنا د اور نقدانعاما ت دینے کا اعلان کیا ہے۔

 پر یس ریلیز



 

اسلام آباد :وفاقی پولیس کی منشیا ت فروشوں اور جر ائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑ ے پیما نے پر کر یک ڈاﺅن جا ری ،تعلیمی اداروں میں منشیا ت سپلا ئی کر نے والے سابقہ ریکارڈ یافتہ انتہائی مطلوب دو ملزمان سمیت دیگر جر ائم میں ملوث سات ملزمان کوگرفتار کر کے ان کے قبضہ بھاری مقدار میں چرس، ہیروئن اور اسلحہ معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا گیا ، ملزمان کے پی کے سے منشیات لا کر اسلام آباد اور گردونواح میں فروخت کرتے تھے ملزمان کے خلاف مقدما ت درج کرلیے گئے مزید تفتیش جاری ہے، 

تفصیلا ت کے مطا بق انسپکٹر جنر ل آ ف پولیس اسلام آ باد محمد عامر ذوالفقار خا ن کے احکا ما ت کی روشنی میں ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو جر ائم پیشہ عنا صر کی گرفتار ی اور ما ل مسروقہ کی برآمد گی کا ٹا سک دیا، ان احکا ما ت کی روشنی میں ایس پی صدر زون محمد سرفراز ورک نے ڈی ایس پی ما ر گلہ سرکل عابد اکر ام کی زیر نگر انی ایس ایچ او تھا نہ کر اچی کمپنی سب انسپکٹر سلیم رضا ، سب انسپکٹرز محمد افضل ،محمد خا ن معہ دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیم نے تعلیمی اداروں میں منشیا ت سپلا ئی کر نے والے سابقہ ریکارڈ یافتہ انتہائی مطلوب دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ، ملزمان میں اویس اور ماجد علی عرف لکی شامل ہیں ملزمان کے قبضہ سے 1کلو 125گر ام ہیر وئن اور 170گر ام چرس برآمد کرلی گئی ، ملزمان کے پی کے سے منشیات لا کر اسلام آباد اور گردونواح میں فروخت کرتے تھے ملزمان کے خلاف مقدما ت درج کرلیے گئے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ملزم خر م شہزادکو گرفتار کرکے پسٹل 30بور معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا گیا ، 

اسی طر ح ڈی ایس پی صدر سرکل خا لد محمود اعوان کی زیر نگر انی ایس ایچ او تھا نہ تر نول سب انسپکٹر عالمگیر خا ن ، سب انسپکٹر عامر عباس معہ دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیم نے دوران سپیشل چیکنگ 26نمبر چونگی سے منشیا ت فروش رئیس محمود کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے 2کلو 735گر ام چرس برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا ،

  جبکہ دیگر کا رروائیوں کے دوران کو رال پولیس نے گرفتار ملزم وحیداقبال کے انکشاف و نشاندہی پر پسٹل 30بور معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا ، شالیمار پولیس نے ملزم تنزیل الر حمن کے قبضہ سے کا ر رجسٹر یشن نمبر VX-956قبضہ پولیس میں لے کر کا غذات چیک کر وانے پر بو گس پا ئے گئے ، سبزی منڈ ی پولیس نے ملزم کر یم اللہ جو کہ افغانستا ن کا رہا ئشی ہے پا کستان میں اپنی رہا ئش سے متعلق کو ئی ثبو ت پیش نہ کر سکا کو گرفتار کرلیا ، ملزمان کے خلاف علیحدہ علیحدہ مقدما ت درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ، ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے کہا ہے کہ منشیا ت فروشوں کے خلا ف کا و شوں مزید تیز کیا جا ئے کیو نکہ یہ عنا صر معاشر ے کے نو جو ان طبقے میں بگا ڑ کے سا تھ ساتھ امن و امان کے درپے ہو تے ہیں اور ان لو گو ں کے خلا ف کا رروائی میں کو تا ہی کسی بھی صور ت بر داشت نہیں کی جا ئے گی ۔ انہو ں نے عزم کا اظہا ر کیا کہ اسلام آ باد پو لیس ایسے عنا صر کا قلع قمع کر ے گی ۔انہو ں نے کہا ہے کہ تما م پولیس افسران منشیا ت فروشوں کے خلا ف ٹھو س اقداما ت کر یں او رمعا شر ے کو اس لعنت سے نجا ت دلا نے کے لیے کو کسر اٹھا نہ رکھی جا ئے ۔ انہوں نے نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ جرائم کے خاتمے اور اور امن وامان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں اگر آپ کے اردگرد منشیات فروش ،جواءباز یا دیگر مشکوک افراد کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہوں تو فوری اطلاع دیں جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا انہو ں نے پولیس افسران کو ہدا یا ت کیں کہ سٹر یٹ کر ائم ، چوری و ڈکیتی کی وارداتو ں میں ملوث ملزمان سمیت اشتہا ری مجر مان کے خلاف کا رروائیا ں تیزکیں جا ئیں ۔

 ایک اندازے کے مطابق پاکستان


 میں 35 لاکھ مساجد ہیں،جنکی




 تعمیر اور موجودہ خرچہ کے لے


 مقامی نمازی


 حضرات تعاون کرتے ہیں۔


مساجد میں کوئی TV نہیں


 دیکھتا لیکن یہ مساجد ہمیشہ


 سے اپنے بجلی کے بل میں PTV


 کی فیس ادا کررہی ہیں۔


موجودہ حکومت نے یہ فیس


 بڑھا کر 100 روپی کردی ہے۔


اب ان مساجد سے حکومت


 ماہانہ 35 کروڑ اور سالانہ



 4 ارب 20 کروڑ کمارہی ہے،جبکہ مساجد


 کے ساتھ تعاون صفر


 ہے۔


حکومت کا تعاون مندر اور


 گردوارے بنانے میں سو فیصد


 ہے۔


مطلب حکومت مساجد سے


 پیسہ لےکر مندر اور گردواروں پہ خرچ کرہی ہے


ہم بحیثیت مسلمان حکومت کے اس گھناونے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں

اور پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مساجد کے بل سے tv ٹیکس کو ختم کردے

 ضلع خیبر میں تعلیمی ادارے تباہی کے دہانے



ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افس خیبر میں بڑے پیمانے پر کرپشن و بد عنوانی بد انتظامی کا انکشاف بازگڑھا کمر خیل کے تمام زنانہ سکول بند استانیاں گھر بیٹھے ففٹی ففٹی کے بنیادپر تنخواہیں لے رہی ہیں لڑکیوں کا مستقبل تباہ ضلعی ایجوکیشن افس کے سامنے احتجاج کرینگے مقامی افراد کی دھمکیاں۔


تفصیلات کے مطابق کــمرخیل سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن خلیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ضم ضلع خیبر ایجوکیشن افس میں بڑے پیمانے پر کرپشن و بدعنوانیوں اور بد انتظامی کا انکشاف ہوا ہے۔ باز گڑھا کمر خیل میں قائم 9 گرلز سکولوں کو تالے لگے ہیں ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ سکولوں کے درجنوں استانیوں سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خیبر اپنے مخصوص ٹاوٹوں کے ذریعے تنخواہوں کا نصف حصہ لے رہا ہے جبکہ  اکثر زنانہ سکولوں کو  تالے لگے دیکھیں جاتے ہیں جنکی وجہ سے ہمارے بچیوں لڑکیوں کی تعلیمی معیار بری طرح متاثر اور تباہ ہورہی ہیں 2015 سے لیکر تاحال 5 سال سے ضلع خیبر کے ایجوکیشن آفیسر کرپشن و بدعنوانیوں کے ناراوا دھندہ میں ملوث ہے اگر متعلقہ افسر کی اصلاح احوال نہیں ہوتا اور ہمارے سکولوں کو سٹاف فراہمی یقینی نہیں بنائی گئی تو کمر خیل قبائل کے ہزاروں کی تعداد میں عوام ضلعی ایجوکیشن افس کے سامنے احتجاج پر مجبور ہو جائینگے

 حکومت کی دوسال کی کار

کردگی کی فوٹو کاپی منظر عام پر.۔۔۔۔

جس نے 2 سال میں آٹے کا  تھیلا 600سے بڑھا کر 1200 پر پہنچایا،،

55 کی چینی 105 پر پہنچائی ،،

110 کا گھی 220 پر پہنچایا،

دال ماش اور دال مونگی140سے290 روپے کلو پہنچاٸی،

مرچ 240 سے 600روپے فی کلو،

چاول110سے150 روپے کلو،

بلکہ روز مرہ استمعال کی ہر چیز مہنگی ترین کپڑا جوتے کراکری کاسمیٹیک اشیا ہر چیز مہنگے ترین ملک کا اسی فیصد غریب رل گٸے کہتے ہیں ھےھے یہ تبدیلی ھےھے, یہ مدینہ کی ریاست کے نام پر بننے والے حکمران نے ناجاٸز تجاوزات کی آڑ میں جہاں غریبوں کے گھر گراۓ وہاں ملک بھرمیں درجنوں مسجد گراٸیں اور ایاک نعبدو وایاک نسعین کہنے والوں نے گردوارہ16 ارب سے بنایا قادیانیوں کو اسلام آباد کے20 کلومیٹر جھنگ روڈ پر90 ایکٹر زمین الاٹ کرکے ریڈ زون قرار دیا،آٸین پاکستان کےمطابق حلف اٹھایا مگر حلف کا پاس نہیں یہ کیسے ہمارےحکمران ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کےعوام پر حکومت کر رھے ہیں ھےھےیہ جھوٹے وعدےکرکے ہم پر مسلط کٸےگٸے  ھےھے یہ تبدیلی توبہ توبہ توبہ,

75 کا لیٹر پیٹرول 105 پہنچایا،،

55 ہزار کا تولہ سونا 1 لاکھ 20 ہزار پر پہنچایا،،

102 کا ڈالر 170 پر پہنچایا،،

موٹرویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر پہنچایا،،

ڈاکخانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچایا،،

بجلی کی 8 روپے یونٹ 20 پر پہنچایا،، 

گیس کی 110 روپے فی ایم ایم بی ٹی 450 پر پہنچائی،،

دوائیوں کی قیمت میں 500% تک کا اضافہ،، قرضہ24800 ارب 41900 ارب،،اب12 ارب بھی چوری روزانہ نہیں ہورھے وہ12 ارب بھی بچ گٸے ہیں


جنہیں چور بنایا وہ تو سارے جیل میں ہیں اب تو صادق امین آ گٸے ہیں مگر پھر لیکن ملک کا بیڑہ غرق  کون کررہا ہے؟؟؟



 مانسہرہ پولیس کا جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کوانصاف دلوانے کی بجائے ملزمان کو بچانے میں مصروف۔

خوش نیازاورماہ ولی اغواء کرکے مجھے لاری اڈہ مانسہرہ تک  لے گئے۔لاری اڈہ مانسہرہ میں پولیس اہلکاروں نے مجھے اغواء کاروں کیساتھ بھیج دیا۔

لاری اڈہ سے شاہزیب اور درویش مجھے کاغان،بٹل اورپھر راولپنڈی لے گئے۔یہ لوگ مجھے زیادتی سے قبل نشہ آورگولیاں کھلادیتے تھے اورزبردستی شراب پلاتے تھے۔

تھانہ صدرمانسہرہ کے اہلکارملزمان کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ انصاف نہ ملاتو خودکشی کرلونگی: رختاج بی بی۔

میں اکیلااپنے خاندان کی کفالت کررہاہوں۔ حکومت انصاف فراہم کرے۔ہمیں جان کا خطرہ ہے۔ ملزمان دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تحفظ فراہم کیاجائے۔

وزیراعظم عمران خان، انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس اور چیف جسٹس انصاف

Add caption

فراہم کریں: 


 یہ ایک حقیقت ہیکہ ناموس صحابہ کیلیے جو بھی کھل کر سامنےآئے گا اسے راستے سے ہٹایا جائے ا

مگر واللّہ یہ عہد کرتے ھیں ھم بھی ایک دن چلے جاٸینگے مگر کامیاب ھوکر


جان چلی جاٸے صحابہؓ کے در کی چوکیداری کبھی بھی نہیں چھوڑینگے انیس الدین عثمانی


 چند سال پہلے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب مجھے گانے نہیں سننے اسکے لیے میں نے پہلا قدم اپنے فون سے ہر قسم کی موسیقی ڈیلیٹ کر کے کیا تھا وجہ کوئی خاص بڑی نہیں تھی مجھے پرانے زمانے کے گانے اچھے لگتے تھے اور وہی میرے موبائل میں بھی ہوتے تھے کچھ عرصہ مجھے یہ احساس ہوا کہ جب تک یہ میرے پاس موجود ہیں میں وقتاً فوقتاً انہہں سنتا  رہوں گآ  اور یہی میرے ساتھ ہو رہا تھا اس لیے مجھے ایک بڑا قدم لینا تھا سو میں نے کوشش کے طور پر قدم بڑھایا جس میں بہت سالوں تک کامیاب رہا  مگر اب جب سے واٹس ایپ سٹیٹس پر گانوں کا آپشن آیا تو ہر ایک نے گانے سٹیٹس پہ چڑھائے ہوئے ہوتے کچھ عرصہ تک میں نے احباب کو منع بھی کیا کہ مت لگائیں یا پھر لگائیں تو مجھے پرائیویسی میں جا کے نکال دیا جائے کیونکہ جو لوگ اپنے نفس سے جنگ لڑ رہے ہوتے آپ انکو بھی اس گناہ میں دھکیل کر مزید گناہگار نہ ہوں پر سنوائی نہیں ہوئی ۔۔ آخر کار مجھے اپنا موبائل تاعمر سائلنٹ پہ کرنا پڑا کہ نہ آواز ہو گی نہ کانوں میں پڑے گی مگر آج ایک بار پھر میری گزارش ہے سب سے خدارا دوسروں کو بھی بچائیں اور خود بھی بچیں کیونکہ جو گانا آپ سٹیٹس پہ لگاتے ہو وہ جتنا بندے سنیں گے اس کا گناہ آپ کو ملے گا خدارا آج ہی توبہ کر  لیں ورنہ آخرت تک جتنے لوگ سنیں گے گناہ آپ کو ملے گا چایے آپ مر بھی کیوں نہ گئے ہوں 


ضرور پڑھیں 

*الفاظ تھوڑے سخت ہیں، لیکن سچ ہیں

موسیقی؟

یاد رکھیں! اسلام میں موسیقی سختی سے حرام ہے۔ موسیقی کی وجہ سے ہی حضرت شیت علیہ السلام کے زمانے میں زنا کی ابتداء ہوئی۔


جو لوگ موسیقی کو اپنی روح کی غذا کہتے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ کسی فوت شدہ کی میت پہ گانے کیوں نہیں بجائے جاتے؟ تب کیوں اللہ سے دعائیں مانگی جاتئ ہیں؟ حالانکہ تب ہی لبرل (آزاد خیال، ماڈرن) لوگوں کے لیے صحیح وقت ہوگا نا کہ وہ گانے بجائیں اور مرنے والوں کی روحوں کو غذا دیں۔ ان کو سکون پہنچائیں۔

صرف ایسے ہی موقعوں پہ ہمارے اندر کا روایتی مسلمان جاگتا ہے۔ ورنہ تو ہم کافروں کے ہی پیروکار بنے ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس!!

یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ گانا بجانا شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

سکالر کہتے ہیں کہ "موسیقی شیطان کا حربہ ہے"۔ یہ انسان کے دل پہ غلبہ پالیتا ہے۔ اور اس کو یاد الہی سے غافل کردیتا ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ ہم اپنے فون کی ساری موسیقی 2-3 گھنٹوں میں سن لیتے ہیں اور بعض اوقات تو اپنی نمازیں بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ دل کرتا ہے کہ اور گانے سنوں۔


سکالرز کا متفقہ موقف ہے کہ موسیقی کالے جادو، جنات کے غلبے کا سبب بنتی ہے کیونکہ یہ ہے ہی شیطان کی چیز!!

مفتی مینک کہتے ہیں کہ اگر ہم غور کر بھی لیں تو جو سکالرز گانے سننے کی اجازت دیتے ہیں تو میری ایک بات یاد رکھیں۔ وہ سکالرز آج کی دھن کی بات نہیں کررہے۔ آج کی دھن فحاش ہے، عریاں ہے، گندی ہے، گھٹیا ہے۔ یہ آپ کو ناچنے پہ مجبور کرتی ہے۔ تھڑکنے پھڑکنے پہ مجبور کرتی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے۔اللہ ہم سب کو معاف فرمائے۔


بہت سے ایسے کیسز بھی ہیں جن میں مرنے والے شخص کی زبان پہ کلمے کی بجائے گانے تھے۔ اور وہ گانے بولتے ہوئے ہی مرگیا۔

کچھ واقعات ایسے بھی ہیں جن میں سفر کے دوران گاڑی میں گانے لگے تھے اور گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ آپ خود سوچیں، کیا وہ لوگ ایمانی حالت پہ مرے ہوں گے؟ اللہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہوئے مرے ہوں گے؟

آپ خود ذرا ایسی موت کا تصور کریں۔ کیا جنت کہیں نظر آرہی ہے؟


 اللہ سے دلی توبہ کریں۔ اور پختہ ارادہ باندھیں

 اپنے موبائل کی گیلری اور باقی تمام آلات سے گانے ڈیلیٹ کردیں۔ ان گانوں کی بجائے قرآن پاک کی سورتیں اور نعتیں ڈاون لوڈ کرلیں۔*


(یاد رکھیں جن نعتوں میں موسیقی آلات استعمال ہوئے ہیں، وہ بھی حرام ہیں)

 اور بعض نعتوں میں شرکیہ شاعری ہوتی ہے وہ بھی حرام ہے


جب بھی دل میں گانے سننے کا خیال آئے تو سوچیں کہ "اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ کیا میں واقعی شیطان کو خوش کرکے، اللہ کی ناراضی مول لے کے صحیح کررہا ہوں؟"*

ہمیشہ اس حدیث کے مہفوم کو یاد رکھیں


" جو شخص اللہ کے لیے کسی چیز کو چھوڑتا ہے، اللہ اس چیز سے بہتر اُس کو عطا کرے گا"

 ﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ہیں

ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦ ﻏﯿﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ  ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!


 ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ.ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ

ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.

ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.

ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ

ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ

ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ.

ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.

ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ

ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ بھی ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟

ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ

ﺟﯽ

"ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!


ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ. ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ. ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ.

ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ

ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ

ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ

ﺍﻣﺎﮞ شرمنده هو کر ﮨﺮ ﻭﻗﺖ سر جھکائے ر هنے لگیں

ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


 ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ

استفسار ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


 ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ

ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ.

ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ

ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ'' 


ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، بے حیائی ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ.

ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ.

ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ کرنے لگی۔

ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ

"ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ"

ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ

ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔

ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!"


"ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ"

ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ

ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ


ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..

 "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ"


 ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ.  ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ

ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.


ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،

 ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،

 ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،

ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ.

ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ

ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ

ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ

ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ

ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ

ﺍﺱ ﻧﮯ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ

ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ

"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"


ھماری بے راہ روی  ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.


ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ.

اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے

 ورنہ ھم نے بھی بس

*"کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے

 


درس قرآن


سورہ اَلۡقَارِعَة 


أَعُوذُ باللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجیم۞

میں پناہ میں آتا ہوں اللہ تعالٰی کی 

شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے


ﺑِﺴْﻢِ ٱﻟﻠَّﻪِ ٱﻟﺮَّﺣْﻤَٰﻦِ ٱﻟﺮَّﺣِﻴﻢِ۞

اللہ تعالی کے نام سے 

جو رحمان اور رحیم ہے 

 ─━•<☆⊰✿❣✿⊱☆>•━─

اَلۡقَارِعَةُ۞ مَا الۡقَارِعَةُ‌۞ وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡقَارِعَةُ۞ يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِۙ‏۞ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِؕ۞ 

عظیم حادثہ!۞ 

کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟۞ 

تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟۞ 

وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے 

پروانوں کی طرح ہونگے۞ 

اور پہاڑ رنگ برنگ کے 

دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے۞

[101 اَلۡقَارِعَة]

آیت نمبر 01 تا 05]

 ─━•<☆⊰✿❣✿⊱☆>•━─

📚حــــدیثِ رســـولﷺ


✒میت پر نوحہ کرنے کی حرمت کا بیان

🍁 علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ 

انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مر گیا، 

اس پر نوحہ کیا گیا 

تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله تعالیٰ عنہ آئے 

اور منبر پر چڑھے۔ 

اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی 

پھر کہا: کیا بات ہے؟ 

اسلام میں نوحہ ہو رہا ہے۔ 

سنو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: 

🔥 ”جس پر نوحہ کیا گیا 

اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہو گا “

📚#جامع_ترمذی، حدیث نمبر 1000

(غریب حسن صحیح)

🔍 موتکابیان

🏷️وضاحت : 

میت پر اس کی خوبیوں اور کمالات بیان کر کے 

چلا  چلا کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں - 

🏷️یہ عذاب اس شخص پر ہو گا 

جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے گیا  ہو ٬ 

یا اس کا اپنا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو 

اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی 

اس پر نوحہ کر  رہے ہوں-

─━•<☆⊰✿❣✿⊱☆>•━─

✨✨✨ تقویـــمِ یـــوم ✨✨✨

🕌 ______ 🕌

22 صفر ⛈1442ھ

🕌 ______ 🕌

10 ⛈ اکتوبر ⛈ 2020ء⛈

🕌 ______ 🕌

25 اسوج🥀2077 بکرمی

🕌 ______ 🕌

🌤 بـــروز⛈ ہفتہ ⛈

🕌 ______ 🕌

 بہادر شاہ ظفر   کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے 


  قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی 


 آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں 


 کیوں 


پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں 


 تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی


صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں


زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے


 وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے


 پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں


 دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں


 انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں    سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں


 ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے


 کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے


 بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے


 دن کے ایک بجے سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے


 یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں  ''صبح''  کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے


 ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار ماہ جبینیں چہرہ، پائوں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،، !


 اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا


 دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی،   مرغ بازی،   کبوتر بازی   اور   مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،


اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں


برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس  ''مرگ آباد''  سے واپس نہیں جاتا


لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے


اب 2018ء میں آتے ہیں


 پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں


 آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں


 بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ  امریکہ  جاپان  آسٹریلیا اور  سنگاپور میں کوئی دفتر،  کارخانہ،  ادارہ،  ہسپتال  ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !


آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے


اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا،  نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا


بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !


 حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔


 اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں  یا  صوبوں کے دفاتر  یا  نیم سرکاری ادارے،،   ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،،   کتنے وزیر  کتنے سیکرٹری  کتنے انجینئر  کتنے ڈاکٹر  کتنے پولیس افسر  کتنے ڈی سی او  کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ 


کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں،   اور  کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ،   جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،


 کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.


جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی.


اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاھک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے. 


وطن عزیز کی بقاء اور ترقی کیخاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب میں ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ

 *اسلامک ہسٹری

 کراچی : مولانا ڈاکٹر عادل خان جامعہ فاروقیہ فیز ٹو حب روڈ کے شیخ الحدیث و صدر تھے ۔ پی ایچ ڈی کے بعد پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی کر رہے تھے ۔ 2010 سے 2018 تک انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائشیا میں کلیہ معارف الوحی و انسانی علوم میں پروفیسر بھی تعینات رہے ہیں ۔



وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی کمیٹی کے سینئر رکن، وفاق المدارس کی مالیات، نصابی اور دستوری کمیٹی جیسی اہم کمیٹیوں کا حصہ بھی رہے ہیں ۔ وہ بیک وقت الفاروق کے نام سے اردو، عربی، انگریزی اور سندھی میں ماہانہ میگزین بھی اپنی ادارت میں نکالتے تھے ۔ یہ میگزین 1980 سے اب تک بدستور شائع ہو رہا ہے ۔



مولانا ڈاکٹر عادل خان 1986 سے 2010 تک جامعہ فاروقیہ کراچی کے جنرل سیکرٹری تعینات رہے ہیں ۔ بین الاقوامی تعلیمی سفر کے سلسلے میں وہ کئی عرصہ بیرون ملک رہے ۔ 2017 میں ان کے والد مولانا شخ الحدیث سیلم اللہ خان کی رحلت کے بعد وہ پاکستان آئے اور مدرسہ کا انتظام سنبھالا تھا ۔


1973 دینی درسگاہ جامعہ فاروقیہ سے ہی سند فراغت حاصل کی ،مولانا ڈاکٹر عادل خان نے 1976 میں جامعہ کراچی سے بی اے کیا ، 1978 میں ایم اے عربک اسلامک اسٹیڈیز کیا ، 1992 میں پی ایچ ڈی اسلامک کلچر میں کیا تھا ۔ وہ آج کل پوسٹ ڈاکٹریٹ کے طالب کے طور پر تیاریوں میں مصروف تھے ۔ انہیں 2018 میں ملائشیا میں تحقیق کو ریسرچ و تصنیف پر ہایئر ایجوکیشن ملائشیا کی جانب سے فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ دیا گیا تھا ۔






مولانا عادل خان 6 سال تک جامعہ فاروقیہ کے دارالافتاء کے رئیس بھی رہے ۔ ملائشیا میں بھی ان کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں، انہوں نے ملائشیا یونیورسٹی میں ایم اے کا کورس بھی مرتب کیا تھا، دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک کا سفر کر چکے ہیں ۔ امریکا میں مقیم رہے اور جہاں ایک بڑا اسلامی سینٹر بھی قائم کیا تھا ۔


ان کی معروف تصنیفات میں اسلامی جمہوریہ پاکستان (جلد اول ) ، اسلام اور تصور کائنات، اسلام اور اخلاقیات، اکیسویں صدی میں اسلام، المقالات المختارۃ فی الکتاب والسنہ، اسلام اینڈ نالج، اسلام اور ایتھکس کے علاوہ ملائنشیا یونیورسٹی کے نصاب کی تین کتابوں میں کو آتھر بھی ہیں جن میں نالج اینڈ سولائزیشن ان اسلام، ایتھک اینڈ فقہ فار ایوری باڈی، دی اسلامک ورڈ ویو شامل ہیں ۔






شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ ؒ کے تین بیٹوں میں مولانا ڈاکٹر عادل خان سب سے بڑے بیٹے اور مولانا عبید اللہ خالد چھوٹے بیٹے تھے ۔ ان کی عمر اس وقت 63 برس تھی ۔ پسماندگان میں مولانا مفتی محمد انس عادل ، مولانا عمیر ، مولانا زبیر ، مولانا حسن ، ایک بیٹی ،، ایک بیوہ ، دو بھائی مولانا عبیداللہ خالد اور عبدالرحمن کو سوگواران میں چھوڑا ہے ، دو بیٹے مولانا زبیر اور مولانا حسن اور ایک بیٹی ملیشیا میں مقیم ہیں ۔جب کہ مولانا عمیر ان کے آخری سفر میں ہمراہ تھے ۔ جو معجزاتی طور پر بچ گئے ہیں ۔


 وکیل ناموس صحابہ و مدارس مولانا ڈاکٹر عادل خان ساتھی سمیت شہید ہو گئے


مولانا ڈاکٹر عادل خان حالیہ دنوں میں مفتی منیب الرحمن کے ساتھ ملکر اہلسنت کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے بڑے مشن پر کام کر رہے تھے ۔ وہ گزشتہ کچھ عرصہ میں مفتی منیب الرحمن کے خاصے قریب سمجھے جانے والے دیوبندی عالم دین تھے ۔


انہوں نے حالیہ کچھ عرصہ میں کھل کر اسلام مخالف عناصر کو پکارنا شروع کیا ہوا تھا ، جس میں وہ نمایاں طور پر مدارس اور مساجد کی بندش کے حوالے سے کھل کر سامنے آئے تھے ، جبکہ محرام الحرام میں ہونے والی صحابہ کرام کی گستاخیوں پر کھل کر حکومت اور اہل تشیعہ پر تنقید کی تھی ۔**

 

Blogger کے مواد کی پالیسی

‏Blogger ذاتی اظہار اور مواصلت کیلئے ایک مفت سروس ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ Blogger معلومات کی دستیابی میں اضافہ کرتا ہے، صحت مند مباحثے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان نئے کنکشنز کو ممکن بناتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس مواد کو سینسر کرنا ایسی سروس کے برخلاف ہے جس کی بنیاد اظہار کی آزادی ہے۔

‏تاہم، ان اقدار کو برقرار رکھنے کیلئے، ہمیں ایسے بیجا استعمالات پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے جن سے اس سروس اور وہ آزادی رائے جس کی یہ حوصلہ افزائی کرتا ہے فراہم کرنے کی ہماری اہلیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ نتیجتاً کچھ حدود عائد ہیں کہ Blogger کے ذریعے کس قسم کے مواد کی میزبانی کی جا سکتی ہے۔ ہم نے جو حدود متعین کی ہیں وہ قانونی تقاضوں کو پورا کرتی اور پوری سروس کو بہتر بناتی ہیں۔

‏ہم Blogger کیکمیونٹی گائیڈلائنز سے مختلف مواد کی اطلاع دینے کے لیے بلاگ کے قارئین پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ایسے پوسٹ سے آپ کا سامنا ہوتا ہے جو آپ کے خیال میں کمیونٹی گائیڈلائنز کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو براہ کرم بیشتر بلاگز کی نیویگیشن میں واقع رپورٹ لنک کا استعمال کر کے اس کی اطلاع دیں۔ اگر آپ بلاگ پر لنک تلاش کرنے سے قاصر ہیں، تو آپ اب بھی مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع یہاں۔ دے سکتے ہیں۔

کمیونٹی گائیڈلائنز

ہماری کمیونٹی گائیڈلائنز اوپن ویب کو تخلیق کرنے کے لئے ایک خوش آئند مقام رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ براہ کرم ان گائیڈلائنز کا احترام کریں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی پالیسیز کبھی کبھی اپ ڈیٹ کریں، لہذا براہ کرم یہاں دوبارہ چیک کریں۔ براہ کرم نوٹ کریں کہ ذیل کی پالیسیز لاگو کرتے وقت ہم فنی، تعلیمی، دستاویزی، یا سائنسی غور و خوض کی بنا پر یا جہاں مواد پر کاروائی نہ کرنے سے عوام کو دیگر ٹھوس فائدے ہوں وہاں استثناء اختیار کر سکتے ہیں۔

‏بالغوں کیلئے مواد: ہم Blogger پر بالغوں کیلئے مواد، بشمول ایسی تصاویر یا ویڈیوز کی اجازت ضرور دیتے ہیں جن میں عریانیت یا جنسی سرگرمی شامل ہوتی ہے۔ اگر آپ کے بلاگ میں بالغوں کیلئے مواد ہے تو براہ کرم اپنے Blogger کی ترتیبات میں اس پر 'بالغوں کیلئے' کے بطور نشان لگائیں۔ ہم بھی بالغوں کے مواد والے بلاگز کو مالکان کے ایسا نہ کرنے کی صورت میں نشان زد کر سکتے ہیں۔ 'بالغوں کیلئے' کے بطور نشان زد سبھی بلاگز کو 'بالغوں کیلئے مواد' والے وارننگ شگاف کے پیچھے رکھا جائے گا۔ اگر آپ کے بلاگ میں ایک وارننگ شگاف ہے تو براہ کرم شگاف کو دھوکہ دینے یا غیر فعال کرنے کی کوشش نہ کریں - یہ سب کے تحفظ کیلئے ہے۔

‏

ہماری بالغ مواد کی پالیسی میں کچھ مستثنیات ہیں:

  • Blogger کو بالغوں کے ليے مواد پر پیسہ کمانے کے ليے استعمال نہ کریں۔ مثال کے طور پر، ایسے بلاگز تخلیق نہ کریں جس میں اشتہار یا تجارتی فحش سائٹوں کے لنکس پر مشتمل ہوں۔
  • ہم غیر قانونی جنسی مواد کی اجازت نہیں دیتے ہیں، بشمول تصویر، ویڈیو یا متنی مواد جو آبرو ریزی، محرمات سے مباشرت، حیوانیت یا مردوں سے مباشرت کو ظاہر کرتا یا اسے فروغ دیتا ہے۔
  • مضمون کی رضامندی کے بغیر نجی عریاں، جنسی طور پر واضح یا غیر واضح مباشرت اور جنسی تصاویر یا ویڈیوز پوسٹ یا تقسیم نہ کریں۔ اگر کسی شخص نے آپ کی نجی عریاں، جنسی طور پر واضح یا غیر واضح مباشرت اور جنسی تصاویر یا ویڈیوز پوسٹ کر دیا ہے تو براہ کرم ہمیں یہاں
اس کی اطلاع دیں۔

بچوں کا تحفظ: ہمارے یہاں بچوں کا استحصال کرنے والے مواد کے تئیں صفر برداشت کی پالیسی ہے۔ اس کی کچھ مثالوں میں شامل ہیں:

  • بچوں کے جنسی استحصال کی منظر کشی: ہم کسی بھی ایسے صارف کے اکاؤنٹس برخواست کر دیں گے جسے ہم بچے کے ساتھ جنسی بد سلوکی کو شائع یا تقسیم کرتے ہوئے پائیں گے۔ ہم اس صارف کی اطلاع قانون کے مطابق نیشنل سینٹر برائے گمشدہ و استحصال شدہ اطفال کو بھی دیں گے۔
  • بچوں کے ساتھ جنسی تعلق کا شوق: ہم ایسے مواد کی اجازت نہیں دیتے ہیں جو بچوں کے تئیں جنسی کشش کی حوصلہ افزائی کرتا یا اسے فروغ دیتا ہے۔ مثلاً، بچوں کی تصاویر کی گیلریوں والے ایسے بلاگز نہ بنائیں جہاں تصاویر کا مجموعہ یا تصاویر کے ساتھ موجود متن جنسی لحاظ سے ترغیب آمیز ہو، اور کسی کم عمر کے شرکت کنندہ پر مشتمل جنسی نوعیت کا مواد شائع نہ کریں۔

منافرت والا بیان: ہمارے پروڈکٹس آزادئ اظہار کے پلیٹ فارمز ہیں۔ لیکن ہم منافرت والا بیان کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ منافرت والا بیان کسی کے خلاف تشدد کو فروغ دینے یا بڑھاوا دینے والا مواد ہے یا جس کا بنیادی مقصد نسل، نسلی وابستگی، مذہب، معذوری، عمر، قومیت، فوجی حیثیت، جنسی رجحان، جنس، جنسی شناخت یا کسی دوسری ایسی خصوصیت جو منظم تعصب یا پسماندگی سے وابستہ ہے کی بنیاد پر کسی فرد یا گروپ کے خلاف نفرت بھڑکانا ہے۔

تشدد: ایسا پرتشدد یا خونی مواد پوسٹ کرنا مناسب نہیں ہے جس کا بنیادی مقصد وحشت پھیلانا، سنسنی پیدا کرنا ہو یا غیر مجاز ہو۔ اخباری، دستاویزی، سائنسی، یا فنکارانہ سیاق و سباق میں گرافک والا مواد پوسٹ کرتے وقت، براہ کرم خاطر خواہ معلومات فراہم کرنے کا خیال رکھیں تاکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ اس میں کیا ہے۔ کچھ صورتوں میں، مواد اس قدر پرتشدد یا وحشت انگیز ہو سکتا ہے کہ اس مواد کو ہمارے پلیٹ فارم پر رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، چاہے اس کیلئے کتنا ہی سیاق و سباق کیوں نہ فراہم کیا جائے۔ آخر میں، دوسروں کو کسی خاص طرح کی پرتشدد حرکتوں کیلئے نہ اکسائیں۔

‏

دہشت گردی سے متعلق مواد: ہم دہشت گرد تنظیموں کو بھرتی سمیت کسی بھی مقصد کے لئے Blogger استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ Blogger پر دہشت گردی سے متعلق مواد جیسے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کو فروغ دینے والا، تشدد بھڑکانے والا یا دہشت گردانہ حملوں کا جشن منانے والا مواد بھی سختی سے ممنوع ہے۔

تعلیمی، دستاویزی، سائنسی یا فنکارانہ مقصد کے لئے دہشت گردی سے متعلق مواد پوسٹ کرتے وقت خاطر خواہ معلومات فراہم کرنے کا خیال رکھیں تاکہ ناظرین سیاق و سباق کو سمجھ سکیں۔ گرافک یا متنازع فوٹیج عمر کی پابندیوں یا انتباہی اسکرین کے ساتھ مشروط ہو سکتی ہے۔

‏ہراساں کرنا اور دھمکیاں: دوسروں کو ہراساں نہ کریں اور نہ ہی انہیں دھمکائیں۔ ہراساں کرنے یا دھمکانے کیلئے Blogger کا استعمال کرنے والے لوگوں کا ناگوار مواد ہٹایا جا سکتا ہے یا ان پر اس سائٹ کے لئے مستقل طور پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ آن لائن ہراساں کرنا بھی بہت سی جگہوں پر غیر قانونی ہے اور اس کے سنگین آف لائن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اپنے بلاگ پر دوسرے لوگوں کو دھمکی نہ دیں۔ مثلاً، کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف موت کی دھمکیاں پوسٹ نہ کریں اور اپنے قارئین کو کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف پرتشدد اقدام کرنے پر اکسانے والا مواد پوسٹ نہ کریں۔

کاپی رائٹ: ہماری پالیسی یہ ہے کہ مبینہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے واضح نوٹسز کا جواب دیا جائے۔ کاپی رائٹ کی ہماری کارروائیوں کے بارے میں مزید معلومات یہاں مل سکتی ہے۔ نیز، براہ کرم ایسی سائٹس کے لنکس فراہم نہ کریں جہاں آپ کے قارئین دوسرے لوگوں کے مواد کے غیر مجاز ڈاؤن لوڈز حاصل کر سکتے ہوں۔

ذاتی اور رازدارانہ معلومات: کسی اور شخص کی ذاتی اور رازدارانہ معلومات شائع کرنا ٹھیک نہیں۔ مثال کے طور پر، کسی اور کے کریڈٹ کارڈ نمبرز، سوشل سیکیورٹی نمبرز، غیر فہرستی فون نمبرز اور ڈرائیور لائسنس نمبرز شائع نہ کریں۔ اس کے علاوہ، قانونی حد سے کم عمر کے افراد کی تصاویر یا ویڈیوز ان کے قانونی نمائندوں کی ضروری منظوری کے بغیر شائع یا تقسیم نہ کریں۔ اگر کسی نے قانونی حد سے کم عمر کے افراد کی کوئی تصویر یا ویڈیو ضروری منظوری کے بغیر شائع کی ہے تو ہمیں یہاں اطلاع دیں۔ مزید برآں، یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ زیادہ تر معاملات میں جو معلومات انٹرنیٹ پر یا عوامی ریکارڈز میں کہیں اور پہلے سے موجود ہو تو اسے ہماری پالیسیوں کے تحت نجی یا رازدارانہ نہیں سمجھا جاتا۔

شناخت کی شخصیت گیری اور غلط بیانی:کسی شخص یا تنظیم یا شخصیت گیری نہ کریں یا اپنے آپ کو غلط بیانی نہ دیں۔
اس میں کسی ایسے شخص کی شخصیت گیری یا تنظیمیں شامل ہے جس کی آپ نمائندگی نہیں کرتے ہیں؛ صارف/سائٹ کی شناخت، قابلیت، ملکیت، مقصد، پروڈکٹس، سروسز یا کاروبار کے بارے میں گمراہ کن معلومات فراہم کرنا؛ یا کسی اور فرد یا تنظیم کے ساتھ جھوٹے طور پر وابستگی، یا توثیق کے ذریعہ تائیدات۔
اس میں ایسا مواد یا اکاؤنٹس غلط ترجمانی بھی شامل ہیں جو غلط ملکیت رکھتے ہیں یا اپنی ملکیت یا بنیادی مقصد کو چھپاتے ہیں جیسے اپنے ملک کے بارے میں غلط ترجمانی یا جان بوجھ کر اپنے بارے میں چھپانا یا اپنے بارے میں دیگر مواد کی تفصیلات اس میں آپ کے ملک کے علاوہ، کسی ملک کے صارفین کے لیے سیاست، سماجی مسائل یا عوامی تشویش کے معاملات کے بارے میں مواد بھیجنا شامل ہوتا ہے۔ ہم تحریف یا طنز اور فرضی نام یا تخلص کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں - بس ایسے مواد سے بچیں جس سے آپ کی حقیقی شناخت کے بارے میں قارئین کے گمراہ ہونے کا امکان ہو۔

گمراہ کن مواد: ایسے مواد کو تقسیم نہ کریں جو صارفین کو دھوکہ دہی کریں، گمراہ کرے یا الجھن میں ڈال دیں۔ اس میں شامل ہیں:

شہری اور جمہوری کارروائی سے متعلق گمراہ کن مواد: ایسا مواد جو نمایاں طور پر غلط ہے اور شہری یا جمہوری عمل میں نمایاں طور پر شرکت کنندہ یا اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس میں عوامی ووٹنگ کی کارروائیوں، عمر / پیدائش کی جگہ، انتخابی نتائج یا مردم شماری میں شرکت کی بنیاد پر سیاسی امیدواروں کی اہلیت کے بارے میں معلومات شامل ہیں جو آفیشل سرکاری ریکارڈز سے متصادم ہیں۔ اس میں یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ ایک سیاسی تصویر یا سرکاری آفیشل کی موت ہو گئی ہے، ایک حادثہ میں شامل کر دیا گیا ہے یا اچانک سنگین بیماری میں مبتلا ہے۔

مضر صحت طریقوں سے متعلق گمراہ کن مواد: گمراہ کن صحت یا طبی مواد جو دوسروں کو ان طریقوں میں مشغول ہونے کو فروغ دیتا ہے یا حوصلہ افزائی کرتا ہے جو افراد کو شدید جسمانی یا جذباتی نقصان پہنچا سکتا ہے یا عوامی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

جوڑ توڑ میڈیا: میڈیا کو جو تکنیکی طور پر جوڑ توڑ یا دستاویزی انداز میں اس طرح سے استعمال کیا گیا ہے جس سے صارفین کو گمراہ کیا جاتا ہے اور شدید نقصان کا سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

تعلیمی مواد، دستاویزی، سائنسی یا فنکارانہ سیاق و سباق میں گمراہ کن مواد کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن براہ کرم خاطر خواہ اس سیاق و سباق کو لوگوں کو سمجھنے میں مدد کے ليے کافی معلومات فراہم کرنے کا خیال رکھیں۔ کچھ معاملات میں، سیاق و سباق کی مقدار اس مواد کو ہمارے پلیٹ فارمز پر رہنے کی اجازت مل جائے گی۔

‏ خطرناک اور غیر قانونی سرگرمیاں: Blogger کا استعمال غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا خطرناک اور غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے نہ کریں۔ مثلاً، شراب نوشی کرتے ہوئے گاڑی چلانے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے والا بلاگ تصنیف نہ کریں۔ ورنہ، ہم آپ کا مواد حذف کر سکتے ہیں۔ نیز، سنگین معاملات جیسے کے بچوں کے ساتھ بدسلوکی پر مشتمل معاملات میں، ہم آپ کے بارے میں متعلقہ حُکام کو اطلاع دے سکتے ہیں۔

‏ریگولیٹڈ اشیاء اور سروسز: Blogger کا استعمال الکحل، جوا، فارماسیوٹیکلز اور غیر منظور شدہ سپلیمنٹس، تمباکو، آتش بازی، اسلحے یا صحت/طب سے متعلق آلات جیسی ریگولیٹڈ اشیاء اور سروسز کی فروخت یا فروخت کی سہولت فراہم کرنے کیلئے نہ کریں۔

‏سپام: سپام Blogger میں مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے، اور ان سبھی کے نتیجے میں آپ کا اکاؤنٹ یا بلاگ حذف ہوسکتا ہے۔ کچھ مثالوں میں شامل ہیں اپنی سائٹ کی سمت ٹریفک کو تحریک دینے یا اسے تلاش کی فہرستوں میں اوپر لانے کیلئے وضع کردہ بلاگز بنانا، محض اپنی سائٹ یا پروڈکٹ کو فروغ دینے کیلئے دوسرے لوگوں کے بلاگز پر تبصرے شائع کرنا، اور محصول یا دیگر ذاتی فوائد حاصل کرنے کے بنیادی مقصد کے تحت دوسرے ذرائع پر موجودہ مواد کا چربہ بنانا۔

‏میلویئر اور وائرسز: ایسے بلاگز نہ بنائیں جو وائرسز کو منتقل کرتے ہیں، پاپ اپس کا باعث بنتے ہیں، قاری کی منظوری کے بغیر سافٹ ویئر نصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا بصورت دیگر ضرر رساں کوڈ کے ساتھ قارئین پر اثر ڈالتے ہیں۔ یہ Blogger پر سختی کے ساتھ ممنوع ہے۔

‏Blogger کی مواد کی پالیسی کا نفاذ

براہ کرم بیشتر بلاگز کی نیویگیشن میں واقع رپورٹ لنک کا استعمال کر کے یا یہاں کلک کر کے کمیونٹی گائیڈ لائنز کی مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دیں۔

جب کسی چیز کی اطلاع دی جاتی ہے، تو اسے خودکار طور پر نہیں ہٹایا جاتا ہے۔ اطلاع کردہ مواد کی ہماری ٹیم کے ذریعے توثیق کی جاتی ہے کہ آیا یہ ان کمیونٹی گائیڈلائنز کی خلاف ورزی تو نہیں کرتی ہیں۔ اگر بلاگ سے ہماری گائیڈلائنز کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے تو ہم بلاگ یا بلاگ کے مالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ اگر ہمیں پتا چلتا ہے کہ کسی بلاگ سے ہماری کمیونٹی گائیڈلائنز کی واقعی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ہم خلاف ورزی کی شدت کی بنیاد پر مندرجہ ذیل کارروائیوں میں سے ایک یا مزید کارروائیاں کرتے ہیں:

‏
  • ایک حساس مواد کی وارننگ شگاف کے پیچھے بلاگ یا پوسٹ رکھیں
  • پوسٹ کو غیر شائع کریں، صرف بلاگ کے مصنف کے لئے یہ دستیاب ہوگا
  • ناگوار مواد، پوسٹ یا بلاگ کو حذف کریں
  • مصنفین کی ان کے Blogger اکاؤنٹ تک رسائی کو غیر فعال کریں
  • مصنفین کی ان کے Google اکاؤنٹ تک رسائی کو غیر فعال کریں
  • قانون کے نافذین کو صارف کی اطلاع دیں

اگر ہمیں پتا چلتا ہے کہ کسی صارف نے بار بار بے جا استعمال والے برتاؤ میں مشغول ہونے والے متعدد بلاگز بنائے ہیں تو ہم تب بھی مندرجہ بالا میں سے کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ نے کوئی بلاگ غیر فعال کر دیا ہے تو اسی جیسی سرگرمی والا کوئی دوسرا بلاگ نہ بنائیں۔


 Karachi: Maulana Adil and his driver of Jamia Farooqia killed as a result of firing. Funeral prayers are offered.

A renowned scholar of Deoband cult in Karachi and Maulana Adil of Jamia Farooqia has died as a result of firing by motorcycle riders including his driver. His funeral prayer was offered on Sunday.
A famous scholar of Deoband cult in Karachi and Maulana Adil of Jamia Farooqia died in an attack along with his driver. His funeral prayer was offered on Sunday morning.

The incident took place between and o'clock on Sunday night. According to Shah Faisal Police, Maulana Adil's car was stopped near the candle shopping plaza in Shah Faisal Colony, where the motorcycle rider fired him. Resulting Maulana Adil and driver Maqsood got injured.

Maulana Adil was sent to Liaquat National Hospital and his driver to Jinnah Hospital but he died due to injuries. Jinnah Hospital officials say the driver was brought dead.

The funeral prayer of Maulana Adil was offered on Sunday morning at Jamia Farooqia Phase to Hub River Road. It includes JUI's Ata-ur-Rehman, Senator Maulana Abdul Ghafoor Haider, Maulana Rashid Mahmood Soomro, Amir Hafiz Naeem ur Rehman of Jamaat-e Maulana Qari Muhammad Hanif Jalandhari Jaland,, Other scholars including Mufti Noman Naeem and Aurangzeb Farooqi participated.

The Karachi where the syrup of Sabil was only sweet, not Shia or Sunni

How did the incident happen?

In details of the incident, SPCTD Raja Umar Khattab says three attackers were attacked on a motorcycle.

' The motorcycle riding accused took two attackers behind Maulana Adil's car and took the motorcycle to the other road and parked them. '


He says the two attackers fired with nine MM pistol and the accused were reikiing Maulana Adil's car. The attackers were fled from which routes and the attack was used as a weapon or more than one is being investigated.

Previously, the vehicle targeted by IG Sindh Mushtaq Mehr, according to the initial report given to the Chief Minister Sindh Syed Murad Ali Shah, were Dr. Maulana Adil, Maqsood and Umair Rider, near the candle shopping centre Esshah Faisal Korangi. Molana Adlap was staying with his Vigo during this time one of his colleague went to buy something. Police found five shells of bullets from the location.

Pakistan's Prime Minister, Army Chief and political and religious leaders have condemned the attack on Maulana Adil and expressed regret over his death.

Who was Maulana Adil?

Maulana Adil was the president of the Jamia Farooqia, a university ranked University of Farooqia, a PhD level education in Arabic and Islamic studies in addition to MA.

He previously held the position of Secretary General of Jamia Farooqia, from where he moved to International Islamic University Malaysia where Maarif-ul-Wahi and Ilema-Manas were associated with Faculty.

Maulana Adil's father was Maulana Saleemullah who was a renowned scholar and teacher of Deoband cult and was the president of Federation of Madras Al-Arabia for a long time, before he was among the basic leaders of Tehreek-e-Swad Azam.

Maulana Saleemullah Khan was exit from Darul Uloom Deoband and came to Pakistan in 1955 According to Darul Uloom Deoband's website, Maulana Saleemullah belonged to Afridi, Malik Deen Khel, the family of Pathan, some of his tribe, Hassan, the town of Muzaffarnagar, UP. There were water in Pur Lohari.

After his father's death in 2017, Maulana Adil returned home from Malaysia and took the responsibility of Jamia Farooqia.

Sectarian tensions

SPCTD Raja Umar Khattab says that the attack on Maulana Adil is a conspiracy to spread sectarianism.

Sectarian tensions are found in Karachi after Muharram al-Haram. Cases have been registered against people associated with Shia and Deoband cult, while large rallies were also brought out by Sunni parties. The grandson of the Prophet Islam and his followers. Two days after Chahlum, this incident happened.

Allama Baqir Abbas Zaidi, Provincial Secretary General of Majlis Wahdat Muslimeen has condemned the murderous attack on Maulana Adil and said that this attack is a conspiracy to destroy the peace of the city.

Allama Aurangzeb Farooqi, President of Ahl-Sunnat Wal-Jamaat Pakistan, has said that all the agencies of Pakistan, including the federal government, should arrest the murderers of Maulana Dr. Muhammad Adil Khan within 24 hours, otherwise it is their capacity to stop millions of others. No

Attack before the PDMA rally

Pakistan's United Opposition PDMA has announced a public gathering in Karachi on October 18, a week before the rally. Chief Minister Syed Murad Ali Shah has made police officials to arrest the murderers. Instructed to bring and said some extremists want to spoil the peace of the city. Police should get the killers immediately with technologies.

This is the second major attack in Karachi within a year, earlier in March last year, Mufti Taqi Usmani, the head of Darul Uloom Korangi, was attacked in which he was safe but two people were killed.
https://sachimuchinews.blogspot.com/

بازار و دیگر دکانیں صبح 8 تا شام 6 تک کھلی رکھی جائیں ۔

 این سی او سی نے حکومت کو سفارشات پیش کردیں ۔ بازار و دیگر دکانیں صبح 8 تا شام 6 تک کھلی رکھی جائیں ۔ آوٹ ڈور شادی میں تعداد گھٹا کر 500 کی ...

SuchiMuchiNews

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget