This is a News Chanel All About Pakistan and World,About all Topic, Interesting and Much more Real News, #SuchiMuchiNews #Pakistan #Standforkashmir #haripur URDU POETRY,News,Entertainment,Pakistan news,world news,Blog news,Hamari web,Urdu point,Ary News,Geo news,Corona News,corona virus,covid-19,you tube news,google news,Pm Imran khan news,India news,Real news,Blogger news,suchumuchunews,haripur,Islamabad,Karachi,Lahore,Peshawar,allover news
قدر کرو ماں کی اس سے پہلے وہ چلی جائے 😭😭
جب جوانی چڑھ گئی تو میں گھر دیر سے آنے لگا، رات دیر تک گھر سے باہر رہنا
دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اور پھر رات دیر تک جاگنے اور دیر سے گھر آنے
کی وجہ سے سارا سارا دن سوئے رہنا معمول بن گیا، امی نے بہت منع کیا اور بہت
سمجھایا کہ بیٹا یہ کام ٹھیک نہیں لیکن میں باز نہ آیا۔ شروع شروع میں وہ میری وجہ
سے دیر تک جاگتی رہتی تاکہ دل کو سکون پہنچے کہ میرا بیٹا خیر خیریت سے گھر
واپس آ گیا ہے وقت کے ساتھ ساتھ جب میں اپنے اس کام سے باز نا آیا تو امی سونے
سے پہلے فریج کے اوپر ایک چٹ لگا کر سو جاتی، جس پر کھانے کے بارے میں
اور جگہ کے بارے میں لکھا ہوتا تھا۔
آہستہ آہستہ چٹ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا چٹ پر لکھا ھوتا کہ "گندے کپڑے کہاں
رکھنے ہیں اور صاف کپڑے کہاں پر رکھے ہیں" جیسے جملے بھی لکھے ملنے
لگے، نیز یہ بھی کہ آج فلاں تاریخ ہے اور کل یہ کرنا ہے پرسوں فلاں جگہ جانا ہے
وغیرہ وغیرہ ۔
یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ۔ ۔ ۔
ایک دن جب میں رات دیر سے گھر آیا، بہت تھکا ہوا تھا۔ حسب معمول فریج پر چٹ
لگی ہوئی دیکھی لیکن بغیر پڑھے میں سیدھا بیڈ پر گیا اور سو گیا۔
صبح سویرے والد صاحب کی چیخ چیخ کر پکارنے اور رو نے کی آواز سے میری
آنکھ کھلی۔ ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے انہوں یہ بری خبر سنائی کہ بیٹا تمھاری ماں
اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔
میرے تو جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، غم کا ایک پہاڑ جیسے میرے اوپر
آگرا۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو میں نے امی کے لئے یہ کرنا تھا ، وہ کرنا تھا۔ ۔ ۔ ابھی تو میں
سدھرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو امی سے کہنے والا تھا کہ اب میں رات دیر سے نہیں
آیا کروں گا ۔ ۔ ۔
جب تدفین وغیرہ سے فارغ ہو کر رات کو جب میں نڈھال ہوکر بستر پر لیٹا تو اچانک
مجھے امی کی رات والی چٹی یاد آگئی، جو فریج پر ابھی تک لگی ھوئی تھی میں
فورا گیا اور اتار کر لے آیا، اس پر لکھا تھا:
"بیٹا آج میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے، میں سونے جا رہی ہوں ، تم جب رات کو
آؤ تو مجھے جگا لینا، مجھے ذرا ہسپتال تک لے جانا ۔ ۔۔
خدارا اپنے ماں باپ کا احترام کرو ان کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔۔۔یہ وقت کا پھیر
ھے آج تم اپنے والدین کو برا بھلا کہو گے کل تمہاری اولاد بھی تمھارے ساتھ یہی
سلوک کرے گی۔
خدا کے واسطے اپنے والدین کی قدر کرو یہ قدرت کا انمول تحفہ ھے اور یہ ایک بار
چلے جائیں تو پھر کھبی واپس نہیں آتے
ڈی پی او ہری پور کاشف ذوالفقار کا مخلتف مسالک کے علماء کے ساتھ تعارفی
میٹنگز۔
میٹنگ کے دوران علماء کرام نے ہری پور تعیناتی پر مبادکباد پیش کی. ضلع بھر کے
مجموعی امن و امان اور 12 ربیع الاول عید میلاد البنی ﷺ کے جلوسوں کی
سیکورٹی انتظامات کے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا. ڈی پی او ہری پور نے علماء
کرام کا شکریہ ادا کیا. 12 ربیع الاول عید میلاد النبی کے جلوسوں کے لئے ضلع بھر
میں سیکورٹی نظام کو مزید موئثر بنایا جائے گا. اس کے علاوہ بھی ضلع بھر کے
امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آئنگی کے فروغ میں تمام علماء کرام کے کردار کو
سراہا۔ معاشرے سے اخلاقی جرائم اور دیگر سماجی برائیوں کے روک تھام کے لئے
علماء کرام ممبر کے ذریعے عوام کو وقتاً فوقتاً مناسب آگاہی کریں۔ جرائم پیشہ افراد
معاشرے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے دشمن ہے۔ پولیس انتظامیہ ہر موقع پر
علماء اکرام کے ساتھ تعاون برقرار رکھے گئی۔ تمام مکاتب فکر کے علماء اکرام نے
پولیس انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
یکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔
یہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بیگم نسرین قصوری کی ملکیت ہے جن کو ان کا بیٹا قاسم قصوری چلاتا ہے۔ یہ خاندان اس تعلیمی ادارے کی بدولت کھرب پتی بن چکا ہے۔
خورشید محمود قصوری وہی صاحب ہیں جس نے پندرھویں آئینی ترمیم (شریعہ بل) کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا۔ ( شائد اسلام سے نفرت اس پورے خاندان کے خون میں شامل ہے! )
لبرل ازم کا علمبردار "بیکن ھاؤس" ہر سال پاکستانی سوسائیٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلیٰ ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنسمین اور وڈیرے شامل ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرنے والے ان طلباء کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور افکار کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے بلکہ جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلباء کی اکثریت کو اردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے۔ (جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے رکھنے والا دوسرا اہم ترین جزو ہے۔ 🙂 )
پاکستان کے اعلیٰ ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلباء کی اکثریت بڑی تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اسی طبقے کا ایک بڑا حصہ فوج میں بھی جارہا ہے جو ظاہر ہے وہاں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے نہیں جاتا۔
اگر بیکن ھاؤس اسی رفتار سے کام کرتا رہا تو آنے والے پانچ سے دس سالوں میں پاکستان ایک لبرل ریاست بن چکا ہو گا جس کے بعد اس کے وجود کو پارہ پارہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں کہ ۔۔
۔۔ "ہم نے تمھارے کالجز اور یونیورسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمہاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جراتِ اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمہاری پوری تاریخ رد کر دینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمہارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤ گے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوسی نعرہ لگے گا اور وہ تمہارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمہارے رسول پر بھی بدگمان ہو جائینگے حتیٰ کہ تمہارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے! "
بیکن ھاؤس نے "تعلیم" کے عنوان سے پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
اس "عفریت" کو اب عوام ہی زنجیر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔
بیکن ھاؤس کے حوالے سے جلد ہی دوبارہ نہ صرف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائیگا بلکہ محب وطن میڈیا چینلز اور حکومت وقت سے بھی اس حوالے سے کاروائی کا مطالبہ کیا جائیگا۔
اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں اور اس مضمون کو کاپی کر کے اپنے اپنے پیجز اور ٹائم لائنز پر شیئر کریں۔
Get in the habit of thinking
The father boarded the train with his four children and sat quietly on a seat
And he looked out of the window
Children?
No children were on the brink of disaster.
As soon as the train left, they lifted the sky above their heads
Someone was climbing on the upper seats, so someone started teasing the passengers
Someone is taking off his uncle's hat and running away, while someone is shouting loudly and lifting the sky over his head
Passengers are furious
How is the father
He neither forbids them nor says anything
If someone thinks he is insensitive, then someone thinks he is very useless
At last, when the limit of endurance was reached, a man got up in a rage and approached his father and shouted.
"Do you have children or trouble? Why don't you scold them?"
The father looked at him, his eyes filled with tears and spoke
"His mother passed away this morning. I am taking him there. I don't have the courage to say anything to them. If you can stop, stop ...
All the passengers came to the Senate at once ...
In an instant the scene had changed completely
Those naughty kids were starting to look cute to everyone
All were immortal
Everyone loved them
They were clinging to themselves.
In life, the facts are not necessarily what we see
There may be things we don't see,
Remember
Take the time to form an opinion,
Give the optimism some time before the suspicion,
Think twice before making a decision.
Just one more time ...
And just don't insist on being right and wise tomorrow.
Allah is watching us with great love and asks us for mercy and forgiveness for His servants ... !!!!!
چھے گمان رکھنے کی عادت اپنائیںI
باپ چار بچوں کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا، ایک سیٹ پرخاموشی سے بیٹھ گیا
اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
بچے؟
بچے نہیں آفت کے پرکالے تھے۔
انہوں نے ٹرین چلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا
کوئی اوپر کی سیٹوں پر چڑھ رہا ہے ،تو کسی نے مسافروں کا سامان چھیڑنا شروع کر دیا
کوئی چچا میاں کی ٹوپی اتار کر بھاگ رہا ہے تو کوئی زور زور سے چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہا ہے
مسافر سخت غصے میں ہیں
کیسا باپ ہے ؟
نہ انہیں منع کرتا ہے نہ کچھ کہتا ہے
کوئی اسے بے حس سمجھ رہا ہے تو کسی کے خیال میں وہ نہایت نکما ہے
بلآخر جب برداشت کی حد ہو گئی تو ایک صاحب غصے سے اٹھ کر باپ کے پاس پہنچے اور ڈھاڑ کر بولے
"آپ کے بچے ہیں یا مصیبت ؟ آخر آپ ان کو ڈانٹتے کیوں نہیں؟
باپ نے ان صاحب کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسووں سے لبریز تھیں اور بولا
'آج صبح ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے میں ان کو وہیں لے کر جا رہا ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں کہ ان کو کچھ کہہ سکوں۔ آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں ۔۔۔۔۔۔
سارے مسافرایک دم سناٹے میں آ گئے۔۔۔
ایک ہی لمحے میں منظر بالکل بدل چکا تھا
وہ شرارتی بچے سب کو پیارے لگنے لگے تھے
سب آبدیدہ تھے
سب انہیں پیار کر رہے تھے،
اپنے ساتھ چمٹا رہے تھے۔
زندگی میں ضروری نہیں کہ حقائق وہ ہی ہوں جو بس ہمیں نظر آرہے ہوں
بلکہ وہ بھی ہوسکتے ہیں جو ہمیں نظر نہ آ رہے ہو ں،
یاد رکھیئے
رائے بنانے میں وقت لگائیں،
بد گمانی سے پہلے خوش گمانی کو کچھ وقت دیں،
فیصلے سے پہلے ذرا ایک بار اور سوچ لیں،
بس ایک بار اور۔۔۔۔۔
اور بس اپنے ہی درست اور عقل کل ہونے پہ اصرار نہ کریں۔
اللہ بہت محبت سے ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم سے اپنے بندوں کے لئے نرمی اور معافی کا طلبگار ہے۔۔۔۔!!!!!
Khalabat (Special Representative) On the expiration of the term of Tanoli Ittehad Haripur District,
all the bodies were dissolved and a unanimous decision was taken to reorganize. New
organization will be announced on October 31. Coordinator Saleem Khan Tanoli has been
given all the powers An important meeting of the officials of All Pakistan Tanoli Ittehad
Haripur District was held on Friday evening under the chairmanship of Patron General Haji
Hayat Khan Tanoli of Bat Gully. Chief Coordinator Saleem Khan Tanoli Khalabat Chairman
Haji Akram Tanoli Khalabat General Secretary Abrar Khan Tanoli Kangra Colony Haji
Muhammad Naseem Tanoli Kangra Colony Muhammad Jameel Khan Tanoli Haripur
Mumtaz Khan Tanoli Kangra Colony Afzal Khan Tanoli Darya Doga Sajid Karim Tanoli
Khalabat Bilal Maqbool Khan Tanoli Namdar Khan Tanoli Hassan By Javed Khan Tanoli
Hassan By Faisal Saleem Khan Tanoli Badhora and other officials attended. In the meeting,
all the participants unanimously decided to dissolve the existing bodies and reorganize
them
on the expiration of the term of All Pakistan Tanoli Ittehad Haripur District Central and
Tehsil Bodies. According to the unanimous decision, on Saturday 31st October at 2:30 PM
Saleem Khan Tanoli's Hujra located in Pakhral Chowk Sector No. 2 Khalabat All Pakistan
Tanoli Ittehad District Haripur District General Body District Youth Wing Tehsil General
Body and Tehsil Youth Wing Cabinet members of all bodies will be elected New bodies
will
be formed In the meeting, all powers were handed over to Coordinator Saleem Khan Tanoli.
Special prayers and condolences were expressed on the death of former Nazim Kangra
Colony Shaheed Haji Naveed Akhtar Tanoli for his forgiveness and reward.
کھلابٹ(نمائندہ خصوصی)تنولی اتحاد ضلع ہری پور کی مدت مکمل ہونے پر تمام
باڈیاں تحلیل کر کے تنظیم نو کا متفقہ فیصلہ کر دیا گیا 31 اکتوبر کو نئ تنظیم سازی
کا اعلان کیا جاۓ گا
کوارڈینٹر سلیم خان تنولی کو تمام اختیارات سپرد کر دئیے گۓ جمعہ کی شام آل
پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کے عہدےداران کا اہم اجلاس زیر صدارت
سرپرست اعلی حاجی حیات خان تنولی آف بیٹ گلی منعقد ہوا اجلاس میں چیف
کوارڈینیٹر سلیم خان تنولی کھلابٹ چئیرمین حاجی اکرم تنولی کھلابٹ جنرل
سیکرٹری ابرار خان تنولی کانگڑہ کالونی حاجی محمد نسیم تنولی کانگڑہ کالونی
محمد جمیل خان تنولی ہری پور ممتاز خان تنولی کانگڑہ کالونی افضال خان تنولی
دریہ ڈوگہ ساجد کریم تنولی کھلابٹ بلال مقبول خان تنولی نامدار خان تنولی حسن بائ
جاوید خان تنولی حسن بائ فیصل سلیم خان تنولی بدھوڑہ سمیت دیگر عہدے داران نے
شرکت کی اجلاس میں آل پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کی مرکزی اور تحصیل
باڈیوں کی مدت مکمل ہونے پر تمام شرکاء نے متفقہ فیصلہ کرتےہوۓ موجودہ باڈیوں
متفقہ فیصلہ کے مطابق 31 اکتوبر بروز ہفتہ
دن 2:30 بجے چیف کوارڈینیٹر سلیم خان تنولی کے حجرہ واقع پکھرال چوک .
سیکٹر نمبر2 کھلابٹ میں آل پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کی ضلعی جنرل باڈی
ضلعی یوتھ ونگ تحصیل جنرل باڈی اور تحصیل یوتھ ونگ کی تمام باڈیوں کی کابینہ
اراکین کا چناؤ عمل میں لایا جاۓ گا نئ باڈیوں کی تشکیل تک تمام تر اختیارات
کوارڈینیٹر سلیم خان تنولی کو سونپے گۓ اجلاس میں سابق ناظم کانگڑہ کالونی شہید
حاجی نوید اختر تنولی کی وفات پر ان کی مغفرت اور ایصال ثواب کے لیے
خصوصی دعا اوع تعزیت کا اظہار کیا گیا
این سی او سی نے حکومت کو سفارشات پیش کردیں ۔ بازار و دیگر دکانیں صبح 8 تا شام 6 تک کھلی رکھی جائیں ۔ آوٹ ڈور شادی میں تعداد گھٹا کر 500 کی ...