Sachi Muchi News  (Haripur Pakistan)

This is a News Chanel All About Pakistan and World,About all Topic, Interesting and Much more Real News, #SuchiMuchiNews #Pakistan #Standforkashmir #haripur URDU POETRY,News,Entertainment,Pakistan news,world news,Blog news,Hamari web,Urdu point,Ary News,Geo news,Corona News,corona virus,covid-19,you tube news,google news,Pm Imran khan news,India news,Real news,Blogger news,suchumuchunews,haripur,Islamabad,Karachi,Lahore,Peshawar,allover news

Articles by "News"
Ameer Mahawia Tanoli BLOGGER POLICY by hiding the truth by suppressing freedom of speech CORONA VIRUS Corona Virus Stop Eating Paan France Product Games Golra Sharif Haripur Haripur Abbottabad Italian Mall baycot farance Product How log Time Corono Virus live on Human Body Hurry up in Marriage Imported India iSLAMIC NEWS NAWAZ SHARIF News Old Is Gold Search Gold in your mobile Phone One of the main reasons for this was that the rulers there realized that by banning books PAKISTAN Papular Quaita Teacher Job TIK TOK BLOCK we could never make progress. Who is Most Papular TikTok OR Instagram آذربائیجان کے شہری پاکستان اور ترکی سے ملنے والی سپورٹ پربہت زیادہ پرجوش ہیں۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 16 ہزار 351 ہوگئی سعودی عرب کی جانب سے بھارت کے لئے تمام پروازوں پر پابندی لگا دی سوئی گیس منصوبے کی تکمیل پروفاقی وزیرکے سیکرٹری نے علاقے کادورہ کیاجہاں علاقہ مکینوں ماہرین کا بڑا دعویٰ مخالفت کے باوجود معذور ٹک ٹاکر سے لڑکی نے شادی کر لی ---------------------------------------- میں جانتا ہوں اب دنیا بدل گئی ہے اور تو بہت مصروف ہو گیا ہے۔ نئے آنے والے ساتھی بتاتے ہیں، ا والدین پریشانی میں اِضافے کا باعث بن رہی ہے، والدین کیلئے پریشان کن خبر ویکسین کے بعد بھی کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں ہوسکتا

مرزا محمد عرفان کی لاش نوشہرہ وادی سون کے پہاڑوں سے پولیس کی جانب سے 


ملزم کی نشاندہی پر برآمد



مرزا محمد عرفان کی لاش نوشہرہ وادی سون کے پہاڑوں سے پولیس کی جانب سے ملزم کی نشاندہی پر برآمد.... 

گاڑی سمیت اغواء ھونے والے مرزا محمد عرفان عرف مانی مرزا برہان ٹاؤن جوھرآباد کی لاش پہأڑوں میں دربار بابا کھچی کےقریب ملی 

مقتول کو  یکم نومبر اتوار کو جوہرآباد ٹیکسی سٹینڈ سے بل کر کے لے جایا گیا تھا

 اللہ پاک مرحوم کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین.

 


.....مرزا عرفان کی لاش برآمد کر لی..........  

جوھرآباد بکنگ پر جانے والے کار ڈرئیور محمد عرفان کی لاش ملزم کی نشاندہی پر برآمد

چند روز پہلے محمد عرفان اپنی کار بکنگ پر لے کر گیا جو لاپتا ہو گیا۔ تھانہ سٹی 

جوہرآباد میں مقدمہ درج تھا اطلاع ملتے ہی ڈی پی او خوشاب جائے وقوعہ پر پہنچ 

گئے۔ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم موقع پر موجود 

ملزم کو CCTV کیمروں اور ٹیکنیکل بنیادوں پر گرفتار کیا۔ڈی پی او خوشاب کی 

دوسرے ملزم کی جلد گرفتاری کی ہدایت..تفتیش کو تمام شواہد کے ساتھ مضبوط 

بنیادوں پر کرنے کا حکم..

 Mount Kailash, the most mysterious mountain in the world

Mysterious mountain that changes its place



This mountain is located in the mountain range of Tibet. The strangest stories about this mountain are 
famous. It is a beautiful mountain covered with white snow. Which no human step has touched till date. 
To date, no one has been able to climb it. However, its height is only 21778 feet, which is eight 
thousand feet lower than Mount Everest.
Time passes very fast within a kilometer around it. Within 24 hours, your hair and nails grow as much 
as in a month.
At its foot are two lakes separated by a thin strip, but the water of one lake is clear, clear and calm.
While ...
The water of the other lake is noisy all the time.
Whenever a climber starts walking towards him, it seems as if the mountain has been shaken from its 
place. That person gets lost and goes somewhere else.
Some scientists believe that it is not a mountain but a pyramid.
When you get close to this mountain, sometimes you hear very funny and sometimes very scary sounds. ”
(It may be limited to stories, but publishing doesn't mean I agree with it.)

                                                     ‏دنیا کا سب سے پراسرار پہاڑ کیلاش ماؤنٹ 

اپنی جگہ بدل لینے والا پراسرار پہاڑ






یہ پہاڑ تبت کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے ۔اس پہاڑ کے متعلق سب سے عجیب و 

غریب قصے مشہور ہیں ۔سفید برف کی چادر اوڑھے یہ ایک خوش نما پہاڑ ہے۔ 

جسے کسی انسانی قدم نے آج تک نہیں ‏چھوا۔ آج تک کوئی اسے سر نہیں کر سکا ۔

حالانکہ اس کی اونچائی صرف 21778 فٹ ہے جوکہ ماؤنٹ ایورسٹ سے آٹھ ہزار 

فٹ کم ہے۔

اس کے اردگرد ایک کلومیٹر کے اندر وقت ‏انتہائی تیزی سے گزرتا ہے۔ چوبیس 

گھنٹے کے اندر آپ کے بال اور ناخن اتنے بڑھ جاتے ہیں جتنے ایک مہینے میں ۔

اس کے دامن میں دو جھیلیں ہیں جن کو ایک باریک پٹی جدا کرتی ہے لیکن ایک 

‏جھیل کا پانی صاف شفاف اور بالکل پر سکون ہے. 

جب کہ ۔۔۔

دوسری جھیل کا پانی ہر وقت شور مچاتا ہے. 

جو بھی کوہ پیما اس کو سر کرنے اس کی ‏طرف چلنا شروع کرتا ہے تو ایسے لگتا 

ہے کہ جیسے پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے ۔وہ انسان راستہ بھٹک جاتا ہے اور کہیں 

اور جا نکلتا ہے ۔

بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ پہاڑ ‏نہیں بلکہ ایک (pyramid) یعنی اہرام ہے۔

اس پہاڑ کے قریب جانے پر کبھی بہت سریلی اور کبھی بہت ڈراؤنی آوازیں سنائی 

دیتی ہیں۔“

(ہو سکتا ہے یہ صرف قصے کہانیوں تک ‏محدود ہو شائع کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ 

میں اس سے متفق ہوں)

A Karachi citizen reached the court to seek permission to drink cannabis








 A Karachi citizen reached the court to seek permission to drink cannabis

The citizen said that the government should be allowed to drink 5 

grams of hashish

The citizen said that if the government will not allow the 

consumption of 5 grams of cannabis, then this pass of the people 

goes into the wrong hands, then there is no benefit to the 

government.

 ملک و قوم کو دھوکہ دینے والے، کراچی کے دو بڑے مافیا ہسپتال



آغا خان اسپتال  کراچی  اور   لیاقت نیشنل اسپتال کراچی

یہ دونوں ٹرسٹ اسپتال ہیں



 لیاقت نیشنل اسپتال حکومت پاکستان نے تعمیر کیا تھا اور اس کا افتتاح گورنر جنرل 

اسکندر مرزا نے کیا تھا


 لیاقت نیشنل ہسپتال کی پوری اراضی اور اس کی تعمیر حکومت پاکستان نے غریب 

عوام کے مفت علاج کے لیئے کی تھی


 آغا خان اسپتال کی پوری اراضی 

جنرل محمد ضیاء ضیاء الحق نے 

آغا خان فاؤنڈیشن کو تحفے میں دی تھی



کیونکہ آغا خان فاؤنڈیشن نے یہ کہہ کر زمین حاصل کی تھی کہ وہ غریب عوام کے 

سستے علاج کے لیئے اسپتال تعمیر کرینگے اور اس اسپتال میں مستحق مریضوں کا 

بلکل مفت علاج کیا جائیگا


 ایک بات یاد رکھیں ، ٹرسٹ قوانین کے مطابق قابل اعتماد پراپرٹی پر کسی بھی قسم 

کا کوئ بھی وفاقی یا صوبائی ٹیکس وغیرہ بلکل بھی نہیں ہوتا ہے


 آغا خان اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال دونوں انکم ٹیکس کے علاوہ کوئی  بھی ٹیکس 

نہیں دیتے


 لیاقت نیشنل اسپتال جو خالصتا وفاقی سرکاری اسپتال تھا جس پر جعلسازی کے ذریعہ 

کچھ کاروباری گروہوں نے قبضہ کرلیا


اور  جعلسازی کے ذریعہ سرکاری اعتماد کو ٹرسٹ اولاد میں تبدیل کر چکے ہیں


 اسی طرح آغا خان ہاسپٹل نے حکومت پاکستان کے ساتھ جعلسازی کا ارتکاب کیا

جب آغا خان فاؤنڈیشن کو یہ زمین بلکل مفت دی گئی تھی اس وقت اس زمین کی قیمت 

کروڑوں روپے  تھی

اب اس زمین کی قیمت ہی تقریبا 500 ارب کی مالیت ہے

جو سندھ کے غریب عوام کی زمین ہے .. 


 یہ دونوں اسپتال خیراتی مقصد کے لیئے سندھ کے غریب عوام کے لیئے ہیں اور اب 

وہ امیر مریضوں کا مہنگا ترین علاج کرکے لاکھوں نہیں بلکہ اربوں روپے حکومت 

کو بغیر کوئی ٹیکس دیئے کما رہے ہیں



غریب آدمی تو آغا خان ہسپتال اور لیاقت نیشنل ہسپتال میں علاج کروانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ ۔ ۔

ایک مریض کے پرائویٹ کمرہ کا ایک دن کا کرایہ  32000

جو کسی  5سٹار ہوٹل  کے کرایہ سے بھی زیادہ ہے 

ہر جانب لوٹ مار کا بازار سرگرم ہے  کوئ پوچھنے والا نہیں 

پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ share کریں تکہ آرباب اختیار و اعلی قانونی اداروں تک  

آواز پہنچائ جا سکے


Srilankan Air Force New Air Chief Graduate From Risalpur Academy Pakistan







Air Marshal Sudarshana Phatiirana Appointed As a New Air Chief Of Srilanka Air Force

He Is A Graduate of PAF Academy Of Risaalpur Pakistan.He is very Honest and Capable Person

and very intelligent

the Sudarshana is the first Srilanka Air Marshal Chief Who has Training from Pakistani Army 

Academy From Risalpur Pakistan.

All Pakistani People happy and proud him for Congratulation for his New Post.
 


 

 ‏مسلمانوں کے نبی کی بے ادبی کا انجام، بائیکاٹ کے نتیجیے میں فرانس کی اسٹاک 

مارکیٹ کے تیروں اور اشاریوں کا رخ نیچے 

کی طرف۔ اللہ مزید ذلت ان کا مقدر کرے۔

سچ فرمایا مولا کریم نے:

ان شانئک ہو الابتر



آپ کا دشمن بے نام و نامراد ہی رہے

تاریخ کو کون مسخ کر رہا ہے ؟؟'



سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی ایاز صادق نے کل قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ابھینندن کے رہائی کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ


’ابھینندن کی تو بات ہی نہ کریں۔ مجھے یاد ہے شاہ محمود قریشی صاحب بھی اس میٹنگ میں تھے، جس میں وزیرِ اعظم نے آنے سے انکار کر دیا اور فوج کے سربراہ تشریف لائے۔ پیر کانپ رہے تھے، ماتھے پر پسینہ تھا، اور ہم سے شاہ محمود صاحب نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے، اب اس (ابھینندن) کو واپس جانے دیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو رات نو بجے ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ ہندوستان نے کوئی حملہ نہیں کرنا تھا، صرف گھٹنے ٹیک کر ابھینندن کو واپس بھیجنا تھا۔‘

کل والے اجلاس میں ہی خواجہ محمد آصف نے بھی کچھ اس سے ملتا جلتا بیان دیا اور کہا کہ 

' ‏جنرل قمر جاوید باجوہ نے ابھی نندن کی رہائی پر زور دیا ، کہ اس سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے'


اس بات کو انڈین میڈیا نے اچھالا،

جس کے جواب میں ایاز صادق نے ایک سوشل میڈیا پر کچھ یوں وضاحت کی۔ 

’ابھینندن جب پاکستان آئے تھے تو وہ کوئی مٹھائی بانٹنے نہیں آئے تھے، انھوں نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور ان کا طیارہ گرانا پاکستان کی فتح تھی ، مگر جب عمران خان نے پارلیمانی رہنماؤں کی میٹنگ بلائی تو شاہ محمود اس میں آئے، ماتھے پر اتنا پسینہ تھا اور وہ کافی پریشان تھے۔ وہ کس کے کہنے پر یہ کر رہے تھے، ان پر کیا دباؤ تھا، وزیر اعظم نے ہم سے شیئر کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ وہ میٹنگ میں تشریف نہیں لائے، شاہ محمود قریشی نے آ کر کہا کہ ہم ابھینندن کو واپس کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہم نے نیشنل انٹرسٹ کی خاطر یہ کیا اور یہ فیصلہ سول لیڈرشپ کا تھا۔ ہم اس فیصلے سے متفق نہیں تھے کیونکہ ابھینندن کو واپس کرنے کی کوئی جلدی نہیں تھی اور ذرا سا انتظار کر لیتے۔‘


 آج باجوہ نے نیازی سے ملاقات کی اور اس کے بعد آئی ایس پی آر کے ڈی جی صاحب نے خصوصی پریس کانفرنس کی، 


ڈی جی صاحب کا کہنا تھا کہ

'  کل ایک بیان میں تاریخ کی گئی، حکومت پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقعہ دیتے ہوئے انڈین جنگی قیدی ابھینندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا اور اس ذمہ دارانہ فیصلے کو پوری دنیا نے سراہا۔‘


سوال یہ ہے کہ 

جس اجلاس میں آرمی چیف سمیت تمام سیاسی قیادت موجود تھی کیا اس اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ باتیں کی تھیں کہ نہیں؟ 

اگر نہیں کی تھیں تو ایاز صادق کے خلاف جھوٹے الزامات کے آڑ میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر کاروائی کریں، 

اگر کی تھیں تو پہلے شاہ محمود قریشی سے پوچھ گچھ کی جائے اور پھر باجوہ سے کہ اس کے ہوتے ہوئے شاہ محمود نے کس کے اشارے پر اس قسم کا بزدلانہ بیان دیا۔ 


دوسرا سوال کیا اس رہائی سے امن اور مذاکرات بحال ہوئے؟ 


تیسرا سوال آرمی چیف کا کام ہوتا ہے سیاسی قیادتِ اور منتخب حکومت کے احکامات کے روشنی میں لڑنا اور جنگ کے لیے اعلی قسم کے اقدامات کرنا، 

 اس نے کس حیثیت سے قومی سیاسی قیادت کو امن کو ایک اور موقع دینے کا بھاشن دیا ، 

دشمن نے میرے گھر پر حملہ کردیا اور میرا چوکیدار مجھے کہتا ہے کہ امن کو ایک اور موقع دے کر دیکھتے ہیں،


کیا کسی بیان کی حقانیت اور صداقت اس وجہ سے ختم ہوسکتی ہے کہ انڈین میڈیا اس کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے؟ 

پھر تو  پلٹن میدان سے لیکر آئی جی سندھ کے اغواء تک بہت سارے واقعات  ایسے ہیں جس  پر انڈیا میڈیا بھنگڑے ڈال رہا ہے۔ اس کا کیا کریں'صاحب ؟؟؟


آخری سوال ! 

 ن لیگ کی حکومت میں اگر اس قسم کا فیصلہ وزیراعظم کرتے تو پھر بھی محمکہ اس فیصلے کے ساتھ اسی طرح کھڑا رہتا، یا سب سے پہلے حولدار میڈیا کے ذریعے وزیراعظم کو مودی کا یار اور غدار ثابت کیا جاتا اور پھر کلبوشن کیس کی طرح ڈی جی آئی ایس پی آر ایک خصوصی پریس کانفرنس کرتے اور قوم کو بتاتے کہ شیر دل جوان قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ بزدل سیاسی قیادتِ اور بکے ہوئے رہنما ہیں  جو پاکستان کی فتح کو شکست میں تبدیل کررہے ہیں۔ 


اب بتائیں تاریخ کو کون مسخ کر رہا ہے؟

 

 کل پاکستان کے صوبہ کے پی کے کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک مدرسے میں پلانٹڈ بم دھماکے کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 9 افراد شہید ہو گئے


جبکہ زخمیوں کی تعداد 90 کے قریب ہے 

نائن الیون کے بعد دنیا کی تاریخ نے رخ بدلا تو پاکستان کی تاریخ کو بھی بدلنے کی کوشش کی گئی اس کیلئے انہوں نے سب سے پہلے اپنے اور بیگانے کی پہچان ختم کرنے کیلئے کچھ شر پسندوں کو خریدا جن کی بدولت ملک کا امن و امان برباد کیا جاسکے مذید الٹی چال چلتے انہوں نے اس ٹولے کو شریعت یا شہادت کا نعرہ لگا کر اسلامی نفاذ کی تقریر سکھلا دی حالانکہ یہ لوگ خود شرع اللہ کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور ان کی انہی حرکتوں کی بدولت ملک پاکستان میں اپنوں و بیگانوں کی پہچان کرنا  مشکل ہو گئی 

ان ظالموں نے نا مسجد دیکھی نا بازار نا عورت کا تقدس دیکھا نا بوڑھے کی حرمت خود ان ظالموں کو بھی شاید علم نا ہو کہ ایک مسلمان کو ناجائز قتل کرنے کی حرمت کیا ہے تو اس کیلئے میں ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی پیش کرتا ہوں

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :


”لو أنَّ أَهلَ السَّماءِ وأَهلَ الأرضِ اشترَكوا في دمِ مؤمنٍ لأَكبَّهمُ اللَّهُ في النَّارِ“


"اگر زمین و آسمان کے تمام باشندے مل کر ایک مومن کا ناحق خون بہائیں تو اللہ ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دے۔" 


(سنن الترمذي : 1398 ، صححه الألباني)

یہ کیسے درندہ صفت لوگ ہیں جو نعرہ شریعت یا شہادت کا لگاتے ہیں مگر آلہ کار کفار کے ہیں یہ قتل مسلمانوں کو کرتے ہیں مگر تحفظ کفار کو دیتے ہی 

 ان کا ہر کام قرآن و سنت کا مخالف ہے انہی لوگوں کی بدولت جہاد جیسا مقدس فریضہ بدنام کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ قرآن و حدیث کی رو سے اپنے مسلمانوں پر گولی چلانا جہاد نہیں فساد ہوتا ہے اور ایسے فسادی خارجی کہلاتے ہیں اور نبی کریم کے ارشاد کے مطابق ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ جہنمی اور ان  جہنمیوں کے کتے ہیں یہ روئے زمین پر بدترین لوگ ہیں اور ان کو قتل کرنے والے افضل ترین لوگ 

آج یہی سوکالڈ جہادی انڈین را و کفار کی دیگر ایجنسیوں سے فنڈنگ لے کر ہمارے بچوں پر کبھی خودکش تو کبھی پلانٹڈ بم دھماکے کر رہے ہیں ایسے لوگ اللہ کے نبی کی یہ حدیث پڑھ لیں اور دیکھ لیں ان کا ٹھکانہ کہاں ہے جبکہ کل مدرسے میں ہوئے شہید بچے و نمازی تو رب کے عزت و مرتبے والے ہیں ان شاءاللہ

جبکہ ان ظالموں کا مقابلہ کرنے والی عوام اور سیکیورٹی ادراے تو اللہ کے ہاں افضل ترین ہیں 

موت کا ایک دن مقرر ہے تو پھر اس سے ڈرنا گیا 


 حکومت بلوچستان نے سکریڑی سی انیڈ ڈبلیو نور الامین مینگل 

کو  بطور ہاوس رینٹ ریکوزیشن 19 ماہ میں 9 لاکھ  6 ہزار 

7 سو 41 روپے ادا کئے ہیں جبکہ 19 ماہ میں اپنے ہی سرکاری 

گھر کا 2 لاکھ 40 ہزار کرایہ طلب کیا ہے



حکومت بلوچستان خود کوئٹہ میں سرکاری بنگلے کا کرایہ سکریڑیز سے 25 ہزار 

ماہانہ لیتی ہے جبکہ انکو ماہانہ ہاوس ریکوزیشن کی مد میں 47 ہزار 709 روپے ادا 

کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ آفیسران نے تین تین بنگلے  اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جو 


شہر کے وسط میں واقع ہیں اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایک سے زائد سرکاری رہائش 

گاہیں رکھنے اور عدم ادائیگی پر سکریڑی سی اینڈ ڈبلیو نور الامین مینگل کو نوٹس 

دے دیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ زرغون فلیٹس کے فلیٹ کا کرایہ 2 لاکھ 40 

ہزار روپے واجب الادا ہے اور 19 ماہ کا 2 لاکھ 40 ہزار کرایہ مانگا گیا ہے  یعنی 


تقریبا 12 ہزار 631 روپے ماہانہ بنتے ہیں جبکہ حکومت بلوچستان نے انکو سلف 

ہاوس ریکوزیشن اسکیم میں 19 ماہ میں 9 لاکھ  6 ہزار 7 سو 41روپے ادا کئے ہیں

۔ ان سے نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کہ ساتھ ساتھ آپ نے انسکمب روڈ کوئٹہ 

میں بنگلو نمبر 30 کی الاٹمنٹ بھی اپنے نام کروائی ہے، لہذا آپ سے درخواست ہے 

کہ کوئٹہ میں سرکاری رہائشی (الاٹمنٹ کا طریقہ کار) کے طور پر مذکورہ رہائش 

گاہوں میں سے کسی ایک کو خالی کردیں ضابطہ 2009 کسی بھی سرکاری ملازم کو 

اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں اپنی الاٹمنٹ کے تحت ایک سے زیادہ 

سرکاری رہائش گاہیں رکھے حیران کن طور پر حکومت بلوچستان نے جن افیسران 

کو سرکاری رہائش گاہیں دی ہیں اور جن افیسران کو سرکاری گھر ملے ہیں انکو 

ہاوس ریکوریشن کی مد میں پیسہ کیوں دیا جارہا ہے۔ اس وقت ایک بڑی تعداد میں 

سرکاری ملازمین سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم ہیں انکو بھی سکیل کے حساب سے 

ہاوس ریکوزیشن دیا جارہا ہے جو کہ وہ دوبارہ آدھی سے بھی کم رقم سرکاری 

خزانے میں جمع کرواتے ہیں اکثر جب آپ ان مافیاز کے خلاف باتیں کرتے ہیں تو 

سب کے سب آپ کے دشمن بن جاتے ہیں اور آپ کے متعلق ایک منفی رائے عامہ 

بنائی جاتی ہے تاکہ آپ کی مدلل بات بھی کوئی نہ سنے۔

میں حیران ہوں کہ یہ صوبہ مخصوص آفیسر شاہی کیلئے بنایا گیا ہے یا پھر اس میں 

عام آدمی کا بھی کوئی حصہ ہے کیونکہ مراعات تو سب کی سب سرکاری ملازمین 

لے رہے ہیں

 26 اکتوبر 1947 کی یاد میں مہارا راجہ ہری سنگھ کشمیر کے سودے باز کی


26 Oct 1947

 یاد تازہ کرنے کیلئے  سرینگر کے لال چوک میں جہاں 

کشمیری پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں عین اسی جگہ آج 

صبح سویرے انڈین سے مہاراجہ کے لائے گئے ہندو نواز 

لوگوں کے ذریعے ہندوستانی پرچم لہرانے کی کوشش کی گئی 

جس کو غیور کشمیریوں نے ناکام بنا دیا 


واضع رہے 73 سال قبل آج کے دن ہوئی غداری کا خمیازہ 

کشمیری قوم آج دن تک بھگت رہے ہیں

 Kasoor 

Pakistan Rangers operation in Kasur Mandi Usmanwala,



 two smugglers killed after exchange of fire with accused crossing 

international border, millions of Indian liquor recovered



According to details, Pakistan Rangers wanted to stop the smugglers 

entering Pakistan Mandi Usmanwala from the Indian side of the 

border at Mandi Usmanwala in Kasur district, but the smugglers 



opened fire on them. Shahid Hussain and his team returned fire, 

killing two smugglers who were found in possession of 23 bottles of 

Indian liquor worth millions of rupees, which were entering Pakistan 

from India.

Pakistan Rangers have handed over the bodies of the smugglers to 

the concerned police station after the operation on which the police 

are busy.

Report by Suchi Muchi News



 پر یس ریلیز 

اسلام آباد: تھانہ مارگلہ و کراچی کمپنی پولیس ٹیمو ں کی کارروائیاں،رات کے اندھیرے میں دوکانوں سے چوری کرنے والا مرکزی ملزم سمیت ایک موٹر سائیکل چور کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے چوری شدہ رقم 1 لاکھ 8 ہزار پانچ سو روپے اورچوری شدہ ہنڈا 125 موٹر سائیکل برآمدکر لیا ،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔



 

تفصیلا ت کے مطا بق انسپکٹر جنر ل آ ف پولیس اسلام آ باد محمد عامر ذوالفقار خا ن کے احکا ما ت کی روشنی میں ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو جر ائم پیشہ عناصر کی گرفتار ی اور ما ل مسروقہ کی بر آمد گی کا ٹا سک ضلع بھر کے پولیس افسران کو دیا ، ان احکا ما ت کی روشنی میں ایس پی صدر زون محمد سرفراز ورک نے ڈی ایس پی مارگلہ عابد اکرام کی زیرنگرانی میں ایس ایچ او تھا نہ کراچی کمپنی سب انسپکٹر سلیم رضا ،ایس ایچ او تھا نہ ما رگلہ سب انسپکٹر عاشق محمد اے ایس آئیز سہیل اشرف ضمیر الحسن معہ دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیمو ں نے تما م تر وسائل بر ﺅے کا ر لا تے ہو ئے رات کے اندھیرے میں دوکانوں سے چوری کرنے والا مرکزی ملزم عثمان رحمان سمیت موٹر سائیکل چور رضوان کو گرفتار کرلیاگیا ، ملزمان کے قبضہ سے دوکان سے چوری شدہ رقم 1 لاکھ 8 ہزار پانچ سو روپے اور موٹرسائیکل چور سے چوری شدہ ہنڈا 125 موٹر سائیکل برآمدکر کے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جا ری ہے ، ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے پولیس ٹیموں میں شامل افسران و ملازمان کی اس اچھی کا رکر دگی کوسرا ہتے ہو ئے تعریفی اسنا د اور نقدانعاما ت دینے کا اعلان کیا ہے۔

 پر یس ریلیز



 

اسلام آباد :وفاقی پولیس کی منشیا ت فروشوں اور جر ائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑ ے پیما نے پر کر یک ڈاﺅن جا ری ،تعلیمی اداروں میں منشیا ت سپلا ئی کر نے والے سابقہ ریکارڈ یافتہ انتہائی مطلوب دو ملزمان سمیت دیگر جر ائم میں ملوث سات ملزمان کوگرفتار کر کے ان کے قبضہ بھاری مقدار میں چرس، ہیروئن اور اسلحہ معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا گیا ، ملزمان کے پی کے سے منشیات لا کر اسلام آباد اور گردونواح میں فروخت کرتے تھے ملزمان کے خلاف مقدما ت درج کرلیے گئے مزید تفتیش جاری ہے، 

تفصیلا ت کے مطا بق انسپکٹر جنر ل آ ف پولیس اسلام آ باد محمد عامر ذوالفقار خا ن کے احکا ما ت کی روشنی میں ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو جر ائم پیشہ عنا صر کی گرفتار ی اور ما ل مسروقہ کی برآمد گی کا ٹا سک دیا، ان احکا ما ت کی روشنی میں ایس پی صدر زون محمد سرفراز ورک نے ڈی ایس پی ما ر گلہ سرکل عابد اکر ام کی زیر نگر انی ایس ایچ او تھا نہ کر اچی کمپنی سب انسپکٹر سلیم رضا ، سب انسپکٹرز محمد افضل ،محمد خا ن معہ دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیم نے تعلیمی اداروں میں منشیا ت سپلا ئی کر نے والے سابقہ ریکارڈ یافتہ انتہائی مطلوب دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ، ملزمان میں اویس اور ماجد علی عرف لکی شامل ہیں ملزمان کے قبضہ سے 1کلو 125گر ام ہیر وئن اور 170گر ام چرس برآمد کرلی گئی ، ملزمان کے پی کے سے منشیات لا کر اسلام آباد اور گردونواح میں فروخت کرتے تھے ملزمان کے خلاف مقدما ت درج کرلیے گئے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ملزم خر م شہزادکو گرفتار کرکے پسٹل 30بور معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا گیا ، 

اسی طر ح ڈی ایس پی صدر سرکل خا لد محمود اعوان کی زیر نگر انی ایس ایچ او تھا نہ تر نول سب انسپکٹر عالمگیر خا ن ، سب انسپکٹر عامر عباس معہ دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی پولیس ٹیم نے دوران سپیشل چیکنگ 26نمبر چونگی سے منشیا ت فروش رئیس محمود کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے 2کلو 735گر ام چرس برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا ،

  جبکہ دیگر کا رروائیوں کے دوران کو رال پولیس نے گرفتار ملزم وحیداقبال کے انکشاف و نشاندہی پر پسٹل 30بور معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا ، شالیمار پولیس نے ملزم تنزیل الر حمن کے قبضہ سے کا ر رجسٹر یشن نمبر VX-956قبضہ پولیس میں لے کر کا غذات چیک کر وانے پر بو گس پا ئے گئے ، سبزی منڈ ی پولیس نے ملزم کر یم اللہ جو کہ افغانستا ن کا رہا ئشی ہے پا کستان میں اپنی رہا ئش سے متعلق کو ئی ثبو ت پیش نہ کر سکا کو گرفتار کرلیا ، ملزمان کے خلاف علیحدہ علیحدہ مقدما ت درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ، ڈی آئی جی آ پر یشنز وقار الدین سید نے کہا ہے کہ منشیا ت فروشوں کے خلا ف کا و شوں مزید تیز کیا جا ئے کیو نکہ یہ عنا صر معاشر ے کے نو جو ان طبقے میں بگا ڑ کے سا تھ ساتھ امن و امان کے درپے ہو تے ہیں اور ان لو گو ں کے خلا ف کا رروائی میں کو تا ہی کسی بھی صور ت بر داشت نہیں کی جا ئے گی ۔ انہو ں نے عزم کا اظہا ر کیا کہ اسلام آ باد پو لیس ایسے عنا صر کا قلع قمع کر ے گی ۔انہو ں نے کہا ہے کہ تما م پولیس افسران منشیا ت فروشوں کے خلا ف ٹھو س اقداما ت کر یں او رمعا شر ے کو اس لعنت سے نجا ت دلا نے کے لیے کو کسر اٹھا نہ رکھی جا ئے ۔ انہوں نے نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ جرائم کے خاتمے اور اور امن وامان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں اگر آپ کے اردگرد منشیات فروش ،جواءباز یا دیگر مشکوک افراد کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہوں تو فوری اطلاع دیں جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا انہو ں نے پولیس افسران کو ہدا یا ت کیں کہ سٹر یٹ کر ائم ، چوری و ڈکیتی کی وارداتو ں میں ملوث ملزمان سمیت اشتہا ری مجر مان کے خلاف کا رروائیا ں تیزکیں جا ئیں ۔

 ضلع خیبر میں تعلیمی ادارے تباہی کے دہانے



ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افس خیبر میں بڑے پیمانے پر کرپشن و بد عنوانی بد انتظامی کا انکشاف بازگڑھا کمر خیل کے تمام زنانہ سکول بند استانیاں گھر بیٹھے ففٹی ففٹی کے بنیادپر تنخواہیں لے رہی ہیں لڑکیوں کا مستقبل تباہ ضلعی ایجوکیشن افس کے سامنے احتجاج کرینگے مقامی افراد کی دھمکیاں۔


تفصیلات کے مطابق کــمرخیل سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن خلیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ضم ضلع خیبر ایجوکیشن افس میں بڑے پیمانے پر کرپشن و بدعنوانیوں اور بد انتظامی کا انکشاف ہوا ہے۔ باز گڑھا کمر خیل میں قائم 9 گرلز سکولوں کو تالے لگے ہیں ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ سکولوں کے درجنوں استانیوں سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خیبر اپنے مخصوص ٹاوٹوں کے ذریعے تنخواہوں کا نصف حصہ لے رہا ہے جبکہ  اکثر زنانہ سکولوں کو  تالے لگے دیکھیں جاتے ہیں جنکی وجہ سے ہمارے بچیوں لڑکیوں کی تعلیمی معیار بری طرح متاثر اور تباہ ہورہی ہیں 2015 سے لیکر تاحال 5 سال سے ضلع خیبر کے ایجوکیشن آفیسر کرپشن و بدعنوانیوں کے ناراوا دھندہ میں ملوث ہے اگر متعلقہ افسر کی اصلاح احوال نہیں ہوتا اور ہمارے سکولوں کو سٹاف فراہمی یقینی نہیں بنائی گئی تو کمر خیل قبائل کے ہزاروں کی تعداد میں عوام ضلعی ایجوکیشن افس کے سامنے احتجاج پر مجبور ہو جائینگے

 حکومت کی دوسال کی کار

کردگی کی فوٹو کاپی منظر عام پر.۔۔۔۔

جس نے 2 سال میں آٹے کا  تھیلا 600سے بڑھا کر 1200 پر پہنچایا،،

55 کی چینی 105 پر پہنچائی ،،

110 کا گھی 220 پر پہنچایا،

دال ماش اور دال مونگی140سے290 روپے کلو پہنچاٸی،

مرچ 240 سے 600روپے فی کلو،

چاول110سے150 روپے کلو،

بلکہ روز مرہ استمعال کی ہر چیز مہنگی ترین کپڑا جوتے کراکری کاسمیٹیک اشیا ہر چیز مہنگے ترین ملک کا اسی فیصد غریب رل گٸے کہتے ہیں ھےھے یہ تبدیلی ھےھے, یہ مدینہ کی ریاست کے نام پر بننے والے حکمران نے ناجاٸز تجاوزات کی آڑ میں جہاں غریبوں کے گھر گراۓ وہاں ملک بھرمیں درجنوں مسجد گراٸیں اور ایاک نعبدو وایاک نسعین کہنے والوں نے گردوارہ16 ارب سے بنایا قادیانیوں کو اسلام آباد کے20 کلومیٹر جھنگ روڈ پر90 ایکٹر زمین الاٹ کرکے ریڈ زون قرار دیا،آٸین پاکستان کےمطابق حلف اٹھایا مگر حلف کا پاس نہیں یہ کیسے ہمارےحکمران ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کےعوام پر حکومت کر رھے ہیں ھےھےیہ جھوٹے وعدےکرکے ہم پر مسلط کٸےگٸے  ھےھے یہ تبدیلی توبہ توبہ توبہ,

75 کا لیٹر پیٹرول 105 پہنچایا،،

55 ہزار کا تولہ سونا 1 لاکھ 20 ہزار پر پہنچایا،،

102 کا ڈالر 170 پر پہنچایا،،

موٹرویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر پہنچایا،،

ڈاکخانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچایا،،

بجلی کی 8 روپے یونٹ 20 پر پہنچایا،، 

گیس کی 110 روپے فی ایم ایم بی ٹی 450 پر پہنچائی،،

دوائیوں کی قیمت میں 500% تک کا اضافہ،، قرضہ24800 ارب 41900 ارب،،اب12 ارب بھی چوری روزانہ نہیں ہورھے وہ12 ارب بھی بچ گٸے ہیں


جنہیں چور بنایا وہ تو سارے جیل میں ہیں اب تو صادق امین آ گٸے ہیں مگر پھر لیکن ملک کا بیڑہ غرق  کون کررہا ہے؟؟؟



 مانسہرہ پولیس کا جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کوانصاف دلوانے کی بجائے ملزمان کو بچانے میں مصروف۔

خوش نیازاورماہ ولی اغواء کرکے مجھے لاری اڈہ مانسہرہ تک  لے گئے۔لاری اڈہ مانسہرہ میں پولیس اہلکاروں نے مجھے اغواء کاروں کیساتھ بھیج دیا۔

لاری اڈہ سے شاہزیب اور درویش مجھے کاغان،بٹل اورپھر راولپنڈی لے گئے۔یہ لوگ مجھے زیادتی سے قبل نشہ آورگولیاں کھلادیتے تھے اورزبردستی شراب پلاتے تھے۔

تھانہ صدرمانسہرہ کے اہلکارملزمان کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ انصاف نہ ملاتو خودکشی کرلونگی: رختاج بی بی۔

میں اکیلااپنے خاندان کی کفالت کررہاہوں۔ حکومت انصاف فراہم کرے۔ہمیں جان کا خطرہ ہے۔ ملزمان دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تحفظ فراہم کیاجائے۔

وزیراعظم عمران خان، انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس اور چیف جسٹس انصاف

Add caption

فراہم کریں: 

 بہادر شاہ ظفر   کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے 


  قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی 


 آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں 


 کیوں 


پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں 


 تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی


صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں


زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے


 وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے


 پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں


 دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں


 انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں    سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں


 ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے


 کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے


 بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے


 دن کے ایک بجے سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے


 یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں  ''صبح''  کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے


 ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار ماہ جبینیں چہرہ، پائوں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،، !


 اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا


 دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی،   مرغ بازی،   کبوتر بازی   اور   مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،


اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں


برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس  ''مرگ آباد''  سے واپس نہیں جاتا


لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے


اب 2018ء میں آتے ہیں


 پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں


 آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں


 بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ  امریکہ  جاپان  آسٹریلیا اور  سنگاپور میں کوئی دفتر،  کارخانہ،  ادارہ،  ہسپتال  ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !


آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے


اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا،  نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا


بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !


 حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔


 اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں  یا  صوبوں کے دفاتر  یا  نیم سرکاری ادارے،،   ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،،   کتنے وزیر  کتنے سیکرٹری  کتنے انجینئر  کتنے ڈاکٹر  کتنے پولیس افسر  کتنے ڈی سی او  کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ 


کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں،   اور  کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ،   جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،


 کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.


جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی.


اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاھک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے. 


وطن عزیز کی بقاء اور ترقی کیخاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب میں ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ

 *اسلامک ہسٹری

بازار و دیگر دکانیں صبح 8 تا شام 6 تک کھلی رکھی جائیں ۔

 این سی او سی نے حکومت کو سفارشات پیش کردیں ۔ بازار و دیگر دکانیں صبح 8 تا شام 6 تک کھلی رکھی جائیں ۔ آوٹ ڈور شادی میں تعداد گھٹا کر 500 کی ...

SuchiMuchiNews

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget